اتوار، 13 مئی، 2018

سلام لکھتے وقت Asw کے بجائے مکمل "السَّلامُ عَلَــيــْكُمْ وَرَحْمَـــةُاللهِ وَبَرَكَـاتُهُ" لکھنا چاہیے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٦*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *میسیچ میں سلام لکھتے وقت خالی Asw, As لکھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ؟اور اس کا ہمیں جواب دینا ضروری ہے یا نہیں؟*
*المستفتي: وسیم ادولکر رتناگری*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *.آج کل واٹس آپ، فیس بک وغيرہ وغیرہ پر Asw, as اور اس طرح کے حروف سے سلام کرنے کا رواج عام ہوتے جارہا ہے، اس طرح کے حروف کے ساتھ سلام کرنا اپنے مسلمان بھائی کو دعا دینے میں کنجوسی اور سلام کے اصل منشا کے خلاف ہے اور ثواب میں کمی کا باعث ہے اس لیے میسچ کرنے والوں پر ضروری ہے کہ مکمل "السَّلامُ عَلَــيــْكُمْ وَرَحْمَـــةُاللهِ وَبَرَكَـاتُهُ " سے اپنی بات چیت کی ابتداء کرے، فقط Asw، یا as وغیرہ الفاظ پر اکتفاء نہ کریں.*
       *اس طرح الفاظ کے سلام گرچہ کامل سلام نہیں ہے اور اس پر کامل سلام کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ یہ ناقص سلام کے حروف ہیں لیکن چونکہ مخاطب یعنی سامنے والا سمجھ رہا ہے کہ اس نے مجھے سلام کیا ہے اس لیے اس طرح Asw, as وغیرہ کے سلام کا بھی جواب دینا ضروری ہے، لہذا جواب دینے والا مکمل سلام سے قولاً یا تحریرا جواب دے گا.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*علامہ زکریا انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*وهو) أي السلام ابتداء وردا (بالتعريف أفضل) منه بالتنكير فيكفي سلام عليكم وعليكم سلام وإن كانا مفضولين.*
*(وزيادة ورحمة الله وبركاته) على السلام (ابتداء وردا أكمل) من تركها وجاء فيه في الابتداء حديث حسن رواه أبو داود وغيره.*
*... (ولو سلم بالعجمية جاز إذا فهم) المخاطب وإن قدر على العربية (ووجب الرد) ؛ لأنه يسمى سلاما.*
*(اسنى المطالب : ١٨٤/٤)*
 *علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
  *ولو سلم بالعجمية جاز إن أفهم المخاطب وإن قدر على العربية، ويجب الرد؛ لأنه يسمى سلاما.*
*(مغنى المحتاج :١٧/٦)*
*علامہ عبدالحمید الشروانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
   *ولو سلم بالعجمية جاز وإن قدر على العربية حيث فهمها المخاطب ووجب الرد*
*(حواشي الشرواني وابن قاسم العبادي على التحفة :٢٢٥/٩)*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی زبیر پورکر*

📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351

ہفتہ، 12 مئی، 2018

پندرہ شعبان کے بعد قضاء روزے رکھ سکتے ہیں

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٥*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *کیا پندرہ شعبان کے بعد پچھلے رمضان کے قضاء روزہ رکھ سکتے ہیں؟*
*المستفتي:اویس الڈے رائیگڈھ*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *.پندرہ (١٥) شعبان المعظم کے بعد روزہ رکھنے کی حرمت اس وقت ہے جب کوئی بغیر عادت کے روزہ رکھتا ہو یا پندرہ شعبان کے پہلے سے روزہ نہ رکھتا ہو اسی طرح روزہ نذر اور قضاء کا نہ ہو ،اور اگر عادت کا روزہ ہو یا پندرہ شعبان کے پہلے سے روزہ رکھتے آرہا ہو یا نذر کا روزہ ہو اسی طرح قضاء روزے گرچہ نفل قضاء روزے ہی کیوں نہ ہو تو اس صورت میں پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنا بلاکراہت جائز ہے تاکہ آدمی ذمہ سے جلد بری ہوجائے.*
    *لہذا جس شخص کے ذمہ کسی بھی رمضان یا غیر رمضان کے قضاء روزے ہوں تو وہ پندرہ شعبان کے بعد بھی قضاء روزے رکھ سکتا ہے.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*علامہ شمس الدین رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*وله) (صومه عن القضاء والنذر) المستقر في ذمته والكفارة فيحل من غير كراهة مسارعة إلى براءة ذمته كنظيره في الصلاة في الأوقات المكروهة لخبر الصحيحين «لا تقدموا أي لا تتقدموا رمضان بصوم يوم أو يومين إلا رجلا كان يصوم صوما فليصمه» وقيس بالورد الباقي بجامع السبب، ولا يشكل الخبر بخبر «إذا انتصف شعبان» لتقدم النص على الظاهر.*
*(نهاية المحتاج :١٧٧/٣)*
*علامہ ابوبکر الدماطي رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*ومحل الحرمة أيضا: ما لم يكن صومه عن نذر مستقر في ذمته، أو قضاء، ولو كان القضاء لنفل، أو كفارة، فإن كان كذلك، فلا حرمة، وذلك لخبر الصحيحين: لا تقدموا - أي لا تتقدموا - رمضان بصوم يوم أو يومين إلا رجل كان يصوم يوما ويفطر يوما* *فليصمه.*
*وقيس بما في الحديث من العادة: النذر، والقضاء، والكفارة - بجامع السبب*
*(إعانة الطالبين : ٣٠٩/٢)*
*علامہ باعشن رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*أو قضاء) ولو لنفل يشرع قضاؤه (أوكفارة) فيجوز صوم ما بعد النصف عنها ولو يوم الشك،*
*(شرح المقدمة الحضرمية :٥٥٧/١)*
*(الفتاوى الكبرى الفقهية :٨٣/٢)*
             
 
✅ *أيده : مفتی ماہر تانڈیل ،مفتی زبیر پورکر، مفتی عبدالرحیم کیرلوی*

📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351

گروپ میں کسی ایک کا جواب دینا کافی ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *اگر کوئی شخص گروپ میں سلام کرے تو کیا ہر شخص کو جواب دینا ضروری ہے ؟*
*المستفتي : توصیف قاضی*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *اگر کوئی شخص گروپ میں سلام کرے تو گروپ میں سے کسی ایک کا جواب دینا واجب ہے اس سلام کا جواب دینے میں بہتر یہ ہے کہ کوئی ایک غائبانہ جواب کے ساتھ تحریرا بھی جواب دے، گروپ میں سے کسی ایک کے جواب دینے سے تمام ممبران کی طرف سے فرض ساقط ہوگا، گروپ کے ہر ہر ممبر کا جواب دینا ضروری نہیں ہے البتہ گروپ میں سے کسی کے جواب نہ دینے کی صورت میں پورے گروپ والے گنہگار ہونگے.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*چنانچہ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*فإن سلم على واحد، وجب عليه الرد، وإن سلم على جماعة، فالرد في حقهم فرض كفاية، فإن رد أحدهم، سقط الحرج عن الباقين، وإن رد الجميع، كانوا مؤدين للفرض، سواء ردوا معا أو متعاقبين، فإن امتنعوا كلهم، أثموا،*
*(روضة الطالبين : ٢٢٦/١٠)*
     *علامہ خطیب شربیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*ويجزئ عن الجلوس أن يرد أحدهم " والمراد منهم هو المختص بالثواب وسقط الحرج عن الباقين، وإن أجابوا كلهم كانوا مؤدين للفرض، سواء كانوا مجتمعين أم مترتبين، كصلاة الجنازة،*
*(مغني المحتاج :١٤/٦)*     

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر*

📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351

جمعہ، 11 مئی، 2018

بھٹکل کا چاند ممبئی والوں کے لیے معتبر ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٣*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *اگر بھٹکل میں چاند دیکھا جائے تو ممبئی والوں کے لیے بھٹکل والوں کا چاند معتبر ہوگا یا نہیں ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *اتحاد واختلاف مطالع کے بارے میں فقہاء کرام رحمہم اللہ نے الگ الگ معیار بیان کیا ہے، متاخرین فقہاء میں سے علامہ ابومخرمہ رحمہ اللہ نے اتحاد مطلع اور اختلاف مطلع کو اس طرح بیان کیا ہے : "جن دو علاقوں کے غروب شمس میں آٹھ ڈگری کا فرق نہ ہو تو ان دو علاقوں کا مطلع متحد ہوگا اور جن دو علاقوں کے غروب شمس میں آٹھ ڈگری سے زائد کا فرق ہو گرچہ سال کے کسی ایک موسم میں ہی کیوں نہ ہو تو مطلع مختلف سمجھا جائے گا".*
    *ایک ڈگری چار منٹ کی ہوتی ہے اس لحاظ سے آٹھ ڈگری بتیس (٣٢) منٹ کی ہوئی، لہذا جن دو علاقوں میں پورے سال کے کسی بھی موسم میں غروب شمس میں بتیس(٣٢) منٹ سے زائد کا فرق نہ ہو تو مطلع متحد ہوگا.*
     *بھٹکل اور ممبئی کے غروب شمس میں بعض موسم میں زیادہ سے زیادہ بیس (٢٠) منٹ کا فرق رہتا ہے اور بعض موسم میں وقت یکساں بھی رہتا ہے اس حساب سے معلوم ہوا کہ بھٹکل اور ممبئی کا مطلع بھی ایک ہی ہے اور بھٹکل والوں کا چاند ممبئی والوں کے لیے اور ممبئی والوں کا چاند بھٹکل والوں کے لیے معتبر ہوگا.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*علامہ ابومخرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
      *وقال أبومخرمة : إذا كان بين غروبى الشمس بمحلين قدر ثمان درج فأقل فمطلعهما متفق بالنسبة لرؤية لأهله، وإن كان أكثر ولو في بعض الفصول فمختلف أو مشكوك فيه فهو كالمختلف كما نص عليه النووي، فعدن وزيلع وبربرة وميط وماقاربها مطلع... ومكة والمدينة وجدة والطائف وماوالاها مطلع...* *(بغية المسترشدین :١٣٧،عمدة المفتي والمستفتي :٢١٢/١)*
*علامہ وھبہ زحیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*والدرجة أربع دقائق*
 *(الفقه الإسلامي وأدلته :٦٦٨/١)*
             
 
✅ *أيده : مفتی قاضی محمد حسین ماہمکر، مفتی فیاض احمد برمارے ،مفتی فرید احمد ہرنیکر*

📖 ✒ *کتبه وأجابه  : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351

جمعرات، 10 مئی، 2018

سود کی رقم ضرورت مند شخص کو دی جائے گی

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٢*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *اگر کوئی شخص بہت زیادہ ضرورت مند ہے. تو کیا اسکو انٹریس کی رقم دے سکتے ہیں؟*
*المستفتي: قاری سفیان جلگاؤنکر*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *جب کسی کے پاس مال حرام ہو تو اس کو مسلمانوں کے ایسے عام مصالح میں خرچ کیا جائے گا جن میں تمام شریک ہوتے ہو ورنہ کسی ایک فقیر یا چند فقیر کو وہ مال دیا جائے گا.*
   *سود کی رقم بھی حرام ہے اس لیے اس کو بھی یا تو مسلمانوں کے مصالح میں خرچ کیا جائے گا یا وہ رقم فقیر کو دی جائے گی.*
   *لہذا اس سے معلوم ہوا کہ زیادہ ضرورت مند شخص کو بھی سود کی رقم دی جاسکتی ہے.*

بدھ، 9 مئی، 2018

صحت طواف کے لیے طہارت شرط ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١١*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *طواف کے دوران کسی عورت کے ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں ؟*
*المستفتي: حافظ غفران فقیہ رائیگڈھ*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *صحت طواف کے لیے طہارت شرط ہے اور شوافع کا راجح مسلک یہی ہے کہ حالت طواف میں بھی اگر کسی مرد کی چمڑی کسی نامحرم عورت کی چمڑی سے بلاحائل چھوئے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اس لیے مرد وعورت پر ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے بدن سے چھونے سے مکمل احتیاط برتے.*

منگل، 8 مئی، 2018

واٹس ایپ پر سلام کا جواب کیسے دے؟

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *اگر کسی نے واٹس آپ پر سلام کیا اور میسیچ پڑھتے وقت اگر ہم نے اس کا جواب زبانی دیا تو جواب ادا ہوجائے گا یا پھر میسچ کے ذریعہ وعلیکم السلام لکھنا پڑے گا؟*
*المستفتي: وسیم ادولکر رتناگری*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *سلام کا مطلب سلامتی کی دعا دینا ہے اور سلام سے آپس میں محبت وانسیت پیدا ہوتی ہے اسی لیے کسی کے سلام کرنے پر چاہے سامنے والا قولاً سلام کرے یا کتابتاً بہرصورت سلام کا جواب دینا واجب قرار دیا گیا ہے.*

عمرہ میں بھی طواف وداع واجب ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *کیا عمرہ میں بھی طواف وداع ہے؟*
*المستفتي: حافظ غفران فقیہ رائیگڈھ*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *جس طرح حج میں طواف وداع واجب ہے اسی طرح عمرہ میں بھی طواف وداع واجب ہے.*
   *لہذا حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا جب اپنے اعمال کی فراغت کے بعد مکہ سے مفارقت کا ارادہ کریں گے اس وقت طواف وداع کرنا واجب ہوگا.*

پیر، 7 مئی، 2018

عورت کی نماز جنازہ میں امام عورت کی کمر کے پاس کھڑا رہے گا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٨*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *عورت کی نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا رہے؟*
*المستفتی :عمار بن ہلابی*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *اگر میت مرد ہو تو نماز جنازہ میں امام کو میت کے سر کے قریب یعنی سینے کے پاس اور اگر میت عورت ہو تو امام کو میت کے درمیان یعنی سرین کے سامنے کھڑا رہنا سنت ہے، اس کیفیت کے متعلق حضرت علاء بن زیاد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوحمزہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسی طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا(١)*
    *لہذا معلوم ہوا کہ اگر میت عورت کی ہو تو امام کے لیے مسنون یہ ہے کہ عورت کے درمیان میں کھڑا رہے.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎

اتوار، 6 مئی، 2018

طوطا پالنا شرعاً جائز ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٧*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *طوطا پالنے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*
*المستفتي : دانش پونا؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *پرندوں کو اسکی آواز سننے کے لیے یا محض شوق کے خاطر پنجرے میں یا آزاد رکھ کر پالنا جائز ہے جب کہ ان پرندوں کا کھانے پینے اور ہر طرح سے خیال رکھا جائے اس متعلق حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بھائی ابو عمیر نے ایک پرندہ پال رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب تشریف لاتے تو فرماتے : اے ابو عمیر! نغیر (پرندہ) کا کیا ہوا؟ وہ بچہ اس پرندہ سے کھیلا کرتا تھا.(١)*
      *مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حجر عسقلاني رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کہ اس حدیث سے پرندہ کو پنجرے وغیرہ میں روکے رکھنے کا جواز معلوم ہوا.*
    *لہذا طوطا یا کوئی اور پرندہ گھر میں پالنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ ان کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے، حق تلفی اور خیال نہ رکھنے کی صورت ان پرندوں کو پالنا جائز نہیں اور اس صورت میں مرنے پر یہ شخص لعنت اور سخت وعید کا مستحق ہوگا.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
   *(١)عن أنس، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا، وكان لي أخ يقال له أبو عمير - قال: أحسبه - فطيما، وكان إذا جاء قال: «يا أبا عمير، ما فعل النغير» نغر كان يلعب به،*
*(صحيح البخاري :ر ٦٢٠٣)*
*(٢) كذلك وفيه جواز تكنية من لم يولد له وجواز لعب الصغير بالطير وجواز ترك الأبوين ولدهما الصغير يلعب بما أبيح اللعب به وجواز إنفاق المال فيما يتلهى به الصغير من المباحات وجواز إمساك الطير في القفص ونحوه وقص جناح الطير إذ لا يخلو حال طير أبي عمير من واحد منهما*
*(فتح الباري :٥٨٤/١٠)*
*علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں* 
*وسئل القفال عن حبس الطيور في أقفاص لسماع أصواتها وغير ذلك، فأجاب بالجواز إذا تعهدها مالكها بما تحتاج إليه، لأنها كالبهيمة تربط.*
*(مغنی المحتاج :٥٤٧/٥)*
*(الإقناع :٥٤٧/٢)*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے*

📖 ✒ *کتبه وأجابه  : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351