‏نماز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏نماز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 5 جون، 2018

سورہ ص کے سجدہ کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٧٦*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *اگر کوئی تراویح میں سورہ ص کا سجدہ کرے تو اس نماز کا کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

   *تئیسویں پارے میں سورہ ص کا سجدہ شوافع کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے بلکہ یہ سجدہ شکر ہے جس کو نماز کے علاوہ میں کیا جائے گا اور اصح قول کے مطابق اس سجدہ کو نماز میں کرنا جائز نہیں ہے, اگر کوئی سورہ ص کا سجدہ نماز میں عمدا کرے گا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی اور اگر کوئی حرمت کو نہ جانتے ہوئے یا بھول کر اس سجدہ کو نماز میں کرے تو عذر کی بناء پر اس کی نماز باطل نہیں ہوگی البتہ سجدہ سہو کرے گا.*

اتوار، 3 جون، 2018

حنفی امام کے پیچھے سورہ ص کے سجدہ کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٣٢*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*

     *اگر کوئی شافعی حنفی امام کے پیچھے تراویح پڑھ رہا ہو تو سورہ ص کے سجدہ میں کیا کرے؟؟*
*المستفتي : احمد حسین حیدرآباد*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق:_*

   *تئیسویں پارے میں سورہ ص کا سجدہ شوافع کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے بلکہ یہ سجدہ شکر ہے جس کو نماز کے علاوہ میں کیا جائے گا اور اصح قول کے مطابق اس سجدہ کو نماز میں کرنا جائز نہیں ہے, اگر کوئی سورہ ص کا سجدہ نماز میں عمدا کرے گا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی .*
    *اسی وجہ سے اگر کوئی حنفی امام اپنے اعتقاد کے مطابق سجدہ کرے تو شافعی مقتدی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کی متابعت کرے یعنی اس حنفی امام کے ساتھ سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ یا تو امام سے مفارقت کی نیت سے مفارقت اختیار کرے، یا پھر امام کے لوٹنے کا انتظار کرے، اس صورت میں اخیر میں سجدہ سہو کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، اور مفارقت کے مقابلہ میں انتظار کرنا افضل ہے.*

جمعرات، 31 مئی، 2018

مقتدی کا امام کو لقمہ دینا مستحب ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٨٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *مقتدی کا امام کو لقمہ دینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

   *اگر امام قرأت کرتے کرتے رک جائے اور آگے نہ پڑھ سکے یا قرأت تو کرے لیکن پڑھتے پڑھتے ایک جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل ہوجائے تو ایسی صورت میں مقتدی کے لیے مستحب ہے کہ وہ امام کو لقمہ دے، البتہ مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ لقمہ دینے کے ساتھ قرأت کا قصد کرے،یا محض قرأت کی نیت سے پڑھے، ان کے علاوہ تفہیم یعنی بتلانے کی نیت سے لقمہ دینے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ محض بتلانے کی نیت سے لقمہ دینے کی صورت میں مقتدی کی نماز ہی باطل ہوجائے گی.*

منگل، 5 دسمبر، 2017

بدرجہ مجبوری ناپاک کپڑے پر نماز پڑھ کر نماز کا اعادہ کیا جائے گا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٨*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *کیا کہتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ھذا میں کہ ایک شخص ایک بند کمرے میں موجود ہے اور اس میں سی سی کیمرہ موجود ہے  اور اس کےبدن پر ناپاک کپڑے ہے اور نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے نہ کمرے سے باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی ستر ڈھانپنے کے لیے اس کے پاس کوئی چیز موجود ہے تو ایسے وقت میں وہ کیا کرے؟ کیا نماز قضا کردے یا اس حالت میں نماز پڑھکر بعد میں اعادہ کرے.*
*(المستفتی :ندیم داکھوے)*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *اگر کوئی شخص صرف نجس کپڑے پر ہی قادر ہو اور اسکے علاوہ پاک کپڑے وغیرہ کا حصول ممکن نہ ہو تو حرمت وقت کی وجہ سے ناپاک کپڑا اتار کر برہنہ نماز پڑھے گا اور اس نماز کا اعادہ بھی ضروری نہیں ہے.*
      *لیکن چونکہ سوال کے مطابق کمرے میں سی سی کیمرا موجود ہے اور ناپاک کپڑے اتار کر برہنہ پڑھنے کی صورت اسکے پورے بدن کا اس میں محفوظ ہونا لازم ہے اور کبھی اس کی ننگی تصویر کا غلط استعمال ہوسکتا ہے اور اس میں بے عزتی کا مسئلہ ہوگا نیز مسلمان پر ستر عورة واجب ہے چاہے نجس کپڑے سے ہی کیوں نہ ہو،چاہے تنہائی میں کیوں نہ ہو.اس لیے ان تمام امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسی ناپاک کپڑے پر نماز پڑھے گا اور بعد میں اس نماز کا اعادہ کرے گا.جیساکہ اگر کوئی نجس کپڑا پہنا ہو اور کوئی دوسرا پاک کپڑا نہ ہو اور سخت سردی یا گرمی کے موقع پر نماز پڑھنے کے لیے ان کپڑوں کو نکالنے کی صورت میں ہلاکت کا خوف ہو تو کپڑے نکالے بغیر نجس کپڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور نماز کے اعادہ کاحکم ہے.*