موبائل فون کے مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
موبائل فون کے مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 26 مارچ، 2020

موبائل فون سے امامت کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللّٰهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
               📁 *سوال نمبر : ٢٥٧*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

📜 *السؤال  :*
    *کیا موبائل فون سے امامت درست ہے؟*
*یعنی امام مسجد میں نماز پڑھائے اور مقتدی کال وغیرہ سے اقتداء کرے اس طرح درست ہے؟؟؟*

*========================*
                  *حامدًاومصلّیاًومسلّماً :*
*أما بعد :*
📃 *الجواب وباللّٰه التوفيق.*
       *کسی امام کی اقتداء میں مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مقتدی اور امام دونوں ایک ہی(جگہ) مسجد میں ہو یا امام مسجد میں ہو اور مقتدی مسجد کے باہر ہو لیکن امام اور مقتدی کے درمیان کا فاصلہ تین سو ذراع (ایک سو پچاس میٹر) سے زائد نہ ہو اور درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو کہ دیکھنے سے مانع بنے البتہ اگر ایک مسجد میں نہ ہو بلکہ مسجد سے باہر تین سو ذراع سے دور ہو تو اس صورت میں اقتداء درست نہیں ہوگی.*
   *لہذا امام مسجد سے امامت اور مقتدی اپنے گھر وغیرہ میں موبائل فون وغیرہ سے اقتداء کرنا درست نہیں ہے.* 

          💎 *و اللّٰه أعـــلـــم بالصواب*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖
    *ﻭ) اﻟﺮاﺑﻊ (اﺟﺘﻤﺎﻋﻬﻤﺎ) ﺃﻱ اﻹﻣﺎﻡ ﻭاﻟﻤﺄﻣﻮﻡ (ﺑﻤﻜﺎﻥ) ﺑﺄﻥ ﻻ ﺗﺰﻳﺪ اﻟﻤﺴﺎﻓﺔ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻭﻻ ﺑﻴﻦ ﻛﻞ ﺻﻓﻲﻧ ﺃﻭ ﺷﺨﺼﻴﻦ ﻣﻤﻦ اﺋﺘﻢ ﺑﺎﻹﻣﺎﻡ ﺧﻠﻔﻪ ﺃﻭ ﺑﺠﺎﻧﺒﻪ ﻋﻠﻰ ﺛﻼﺛﻤﺎﺋﺔ ﺫﺭاﻉ ﺑﺬﺭاﻉ اﻵﺩﻣﻲ ﺗﻘﺮﻳﺒﺎ*
*نهاية الزين : ١٢٢/١*
*ﺇﺫا ﻛﺎﻧﺎ ﺑﻤﺴﺠﺪ ﻓ (ﺃﻱ ﻣﻮﺿﻊ ﺻﻠﻰ) اﻟﻤﺄﻣﻮﻡ (ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ) ﻭﻣﻨﻪ ﺭﺣﺒﺘﻪ (ﺑﺼﻼﺓ اﻹﻣﺎﻡ ﻓﻲﻫ) ﺃﻱ اﻟﻤﺴﺠﺪ (ﻭﻫﻮ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺼﻼﺗﻪ) ﺃﻱ اﻹﻣﺎﻡ ﻟﻴﺘﻤﻜﻦ ﻣﻦ ﻣﺘﺎﺑﻌﺘﻪ ﺑﺮﺅﻳﺘﻪ ﺃﻭ ﺑﻌﺾ ﺻﻒ ﺃﻭ ﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ ﻛﺴﻤﺎﻉ ﺻﻮﺗﻪ ﺃﻭ ﺻﻮﺕ ﻣﺒﻠﻎ (ﺃﺟﺰﺃﻩ) ﺃﻱ ﻛﻔﺎﻩ ﺫﻟﻚ ﻓﻲ ﺻﺤﺔ اﻻﻗﺘﺪاء ﺑﻪ ﻭﺇﻥ ﺑﻌﺪﺕ ﻣﺴﺎﻓﺘﻪ...* *ﻭﺇﻥ ﺻﻠﻰ) اﻹﻣﺎﻡ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻭاﻟﻤﺄﻣﻮﻡ (ﺧﺎﺭﺝ اﻟﻤﺴﺠﺪ) ﺣﺎﻟﺔ ﻛﻮﻧﻪ (ﻗﺮﻳﺒﺎ ﻣﻨﻪ) ﺃﻱ ﻣﻦ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﺄﻥ ﻻ ﻳﺰﻳﺪ ﻣﺎ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ ﺛﻼﺛﻤﺎﺋﺔ ﺫﺭاﻉ ﺗﻘﺮﻳﺒﺎ ﻣﻌﺘﺒﺮا ﻣﻦ ﺁﺧﺮ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻷﻥ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻛﻠﻪ ﺷﻲء ﻭاﺣﺪ ﻷﻧﻪ ﻣﺤﻞ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻼ ﻳﺪﺧﻞ ﻓﻲ اﻟﺤﺪ اﻟﻔﺎﺻﻞ (ﻭﻫﻮ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺼﻼﺗﻪ) ﺃﻱ اﻹﻣﺎﻡ اﻟﺬﻱ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﺄﺣﺪ اﻷﻣﻮﺭ اﻟﻤﺘﻘﺪﻣﺔ (ﻭﻻ ﺣﺎﺋﻞ ﻫﻨﺎﻙ) ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻛﺎﻟﺒﺎﺏ اﻟﻤﻔﺘﻮﺡ اﻟﺬﻱ ﻻ ﻳﻤﻨﻊ اﻻﺳﺘﻄﺮاﻕ ﻭاﻟﻤﺸﺎﻫﺪﺓ (ﺟﺎﺯ) اﻻﻗﺘﺪاء ﺣﻴﻨﺌﺬ.*
*الإقناع : ١٧٠/١*
  📖 🖋 *کتبه وأجابه  : محمد اسجد محمد شفیع بھٹکلی*

☑ *أيده :مفتی اظھر پٹیل، مفتی فواد پٹیل، مفتی طاھر شیخ*

📲 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📲
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*

🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/6wqtFiJVtAT2RBxO3qbjzO

اتوار، 26 مئی، 2019

لائیو سے آیت سجدہ سنے پر سجدہ

🌴🍃 *بِسْــمِ اللّٰهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٢١٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

📜 *السؤال :*
    *اگر کوئی شخص لائیو پر آیت سجدہ سنے تو اس سے سجدہ تلاوت مسنون ہوگا ؟ ؟*

*========================*
                  *حامدًاومصلّیاًومسلّماً :*
*أما بعد :*
📃 *الجواب وبالله التوفيق*

       *اگر کوئی شخص موبائل فون یا اسکے علاوہ آلات میں محفوظ شدہ آیت سجدہ سنے تو اس سے سجدہ تلاوت مشروع و مسنون نہیں ہوتا.*
   *البتہ اگر کوئی ان آلات میں محفوظ کے بجائے براہ راست (Live) آیت سجدہ سنتا ہے تو اس وقت سجدہ تلاوت کرنا مسنون ہوگا.* 

          💎 *و اللّٰه أعـــلـــم بالصواب*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*قراءة النائم والجنب والسكران والساهي ونحو الدرة من الطيور المعلمة فلا يسن السجود لسماع قرائتهم؛ لعدم مشروعيتها وعدم قصدها. قال الكردي : عدم السجود لسماع قراءة الجماد مطلقاً. (المنهاج القويم مع حاشية الترمسى :٤٧٠/٣)*
*إذا سمع آية السجدة من مذياع أو نحوه، فإن كان حالا أي : على الهواء مباشرة فيسن له السجود، وإلا بأن كان من صوت نحو مسجل، فلا.*
*(التقريرات السديدة:٢٧٦)*     
   🖋 *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*
📖 *مفتی عبدالباسط کلدانے*

☑ *أيده : مفتی محمود مومن، مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی ضمیر نجے، مفتی ماہر تانڈیل*

📲 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📲
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*

🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*

*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/BaXLlYj7xDf79GZxHOKlsG

اتوار، 19 مئی، 2019

معتکف کا موبائل فون استعمال کرنا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللّٰهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٩٨*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

📜 *السؤال :*
    *کیا اعتکاف کی حالت میں موبائل فون استعمال کرنا درست ہے؟ ؟*

*========================*
                  *حامدًاومصلّیاًومسلّماً :*
*أما بعد :*
📃 *الجواب وبالله التوفيق*

       *رمضان المبارک کے اخیری عشرہ میں لیلۃ القدر کا قوی امکان رہتا ہے اس لئے اخیری عشرہ میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے اور معتکف کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ مکمل دن عبادت میں مشغول ہو.*
   *معتکف شخص کا عبادت کے بجائے دیگر کاموں میں مصروف ہونا مکروہ ہے اور اعتکاف کے مقصد کے خلاف ہے جس سے اعتکاف کے ثواب میں کمی آتی ہے.*
    *موجودہ دور میں آدمی موبائل فون استعمال کرتے کرتے مباح کام سے حرام کام تک پہنچ جاتا ہے اس لئے معتکف کے لئے عبادت کے بجائے موبائل فون میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے، نیز مسجد جیسی مقدس جگہ میں اس کی قباحت اور بڑھ جاتی ہے لہذا معتکف کو چاہیے کہ وہ اعتکاف کے ایام میں موبائل فون اپنے ساتھ ہی نہ لائے اور اگر سخت ضرورت کے خاطر لائے تو جائز حد تک استعمال کرے.* 

          💎 *و اللّٰه أعـــلـــم بالصواب*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*ﻓﺎﻷﻭﻟﻰ ﻟﻠﻤﻌﺘﻜﻒ اﻻﺷﺘﻐﺎﻝ ﺑﺎﻟﻄﺎﻋﺎﺕ ﻣﻦ ﺻﻼﺓ ﻭﺗﺴﺒﻴﺢ ﻭﺫﻛﺮ ﻭﻗﺮاءﺓ ﻭاﺷﺘﻐﺎﻝ ﺑﻌﻠﻢ ﺗﻌﻠﻤﺎ ﻭﺗﻌﻠﻴﻤﺎ ﻭﻣﻄﺎﻟﻌﺔ ﻭﻛﺘﺎﺑﺔ ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ... ﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﻤﻌﺘﻜﻒ... ﻭﺃﻥ ﻳﺘﺤﺪﺙ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﻤﺒﺎﺡ... ﺑﺤﻴﺚ ﻻ ﻳﻜﺜﺮ ﺫﻟﻚ ﻣﻨﻪ ﻓﺈﻥ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﻛﺮﻩ*
*(المجموع : ٥٢٩/٦)*       
  📖 🖋 *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

☑ *أيده :مفتی قاضی محمد حسین ماہمکر، مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی اسحاق پٹیل، مفتی عمر ملاحی، مفتی احمد نجے*

📲 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📲
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*

🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*

*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/BaXLlYj7xDf79GZxHOKlsG

پیر، 13 مئی، 2019

قرآن پر مشتمل موبائل فون بیت الخلاء لیجانا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللّٰهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٨٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

📜 *السؤال :*
    *اگر موبائل میں قرآن ہو تو اسکو بیت الخلاء لیجانے کا کیا حکم ہے ؟*

*========================*
                  *حامدًاومصلّیاًومسلّماً :*
*أما بعد :*
📃 *الجواب وبالله التوفيق*

       *موبائل فون میں قرآن کریم کی دو حالتیں ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ موبائل فون کی اسکرین پر آیات مبارکہ ظاہر ہورہی ہوں تو اس صورت میں موبائل فون بیت الخلاء لیجانے میں قرآن کی بے حرمتی لازم آتی ہے اس لئے ایسی صورت میں موبائل فون بیت الخلاء لیجانے کی اجازت نہیں ہوگی.*
  *دوسری صورت یہ ہے کہ آیات اسکرین پر ظاہر نہ ہو تو ایسی صورت میں موبائل فون بیت الخلاء لیجانے میں کوئی حرج نہیں ہے.* 

          💎 *و اللّٰه أعـــلـــم بالصواب*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*ﻓﻴﻜﺮﻩ ﺣﻤﻞ ﻣﺎ ﻛﺘﺐ ﻓﻴﻪ ﺷﻲء ﻣﻤﺎ ﺫﻛﺮ ﻟﻠﺨﺒﺮ اﻟﺼﺤﻴﺢ «ﺃﻧﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻛﺎﻥ ﻳﻨﺰﻉ ﺧﺎﺗﻤﻪ ﺇﺫا ﺩﺧﻞ اﻟﺨﻼء» ﻭﻛﺎﻥ ﻧﻘﺸﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻄﺮ ﻭﺭﺳﻮﻝ ﺳﻄﺮ ﻭاﻟﻠﻪ ﺳﻄﺮ ﻭﻟﻢ ﻳﺼﺢ ﻓﻲ ﻛﻴﻔﻴﺔ ﻭﺿﻊ ﺫﻟﻚ ﺷﻲء ﻭﻟﻮ ﺩﺧﻞ ﺑﻪ ﻭﻟﻮ ﻋﻤﺪا ﻏﻴﺒﻪ ﻧﺪﺑﺎ ﺑﻨﺤﻮ ﺿﻢ ﻛﻔﻪ ﻋﻠﻴﻪ، ﻭﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ ﻣﻦ ﺑﻴﺴﺎﺭﻩ ﺧﺎﺗﻢ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﻌﻈﻢ ﻧﺰﻋﻪ ﻋﻨﺪ اﺳﺘﻨﺠﺎء ﻳﻨﺠﺴﻪ ﻭﻣﺎﻝ اﻷﺫﺭﻋﻲ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺇﻟﻰ اﻟﻮﺟﻪ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﻹﺩﺧﺎﻝ اﻟﻤﺼﺤﻒ اﻟﺨﻼء ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺓ، ﻭﻫﻮ ﻗﻮﻱ اﻟﻤﺪﺭﻙ*
*(تحفة المحتاج : ١٦١/١)*       
  📖 🖋 *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

☑ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر*

📲 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📲
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*

🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*

*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/BaXLlYj7xDf79GZxHOKlsG

ہفتہ، 22 ستمبر، 2018

موبائل فون سے قرآن سنتے وقت وضو کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٦*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
      *موبائل فون میں ایڈیو یا ویڈیو کی شکل میں قرآن پاک سنا جائے تو با وضو ہونا ضروری ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *قرآن مجید کو ہاتھ لگانے کی حرمت اس وقت ہے جب کہ قرآن مجید مکتوب ہو یعنی تحریری شکل میں ہو اسی وجہ سے اگر قرآن مجید کے اوراق ضائع ہوجائیں یا جلا دئے جائیں تو پھر اس صورت میں بلا وضو اس کے جلد کو ہاتھ لگانا حرام نہیں ہے اسی طرح اگر کسی ورق سے یا کسی تختی سے قرآن مجید کے حروف اس طرح مٹا دئے جائیں کہ اس کا کچھ اثر باقی نہ رہے تو بلا وضو اس ورق اور تختی کو اٹھانا اور چھونا جائز ہوتا ہے.*
   *لہذا اس روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر موبائل فون سے قرآن مجید ایڈیو یا ویڈیو کی شکل میں سنا جائے اور اسکرین پر آیات مبارکہ ظاہر نہ ہو رہی ہوں تو اس موبائل فون کو بلا وضو چھونا جائز ہے*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*وحمل المصحف) وهو مثلث الميم (ومس ورقه) المكتوب*
*قوله: وحمل المصحف) وهو اسم للمكتوب من كلام الله بين الدفتين*
*أما لو ضاعت أوراق المصحف أو حرقت فلا يحرم مس الجلد*
*(نهاية المحتاج مع حاشيتيه :١٢٣/١)*
*"(ﻗﻮﻟﻪ ﺃﻳﻀﺎ: ﻭﻣﺲ ﻣﺼﺤﻒ) ﻻ ﻳﺨﻔﻰ ﺃﻥ اﻟﻤﺼﺤﻒ اﺳﻢ ﻟﻠﻮﺭﻕ اﻟﻤﻜﺘﻮﺏ ﻓﻴﻪ اﻟﻘﺮﺁﻥ"*
*(حاشية الجمل : ٧٣/١)*
*ولو محيت أحرف القرآن من الورق أو اللوح بحيث لم يبق لها أثر يقرأ جاز الحمل والمس.*
*(فتح العلام : ٢٥٤/١)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی قاضی محمد حسین ماہمکر، مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

جمعرات، 30 اگست، 2018

موبائل فون سے آیت سجدہ سنے پر سجدہ تلاوت

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *موبائل فون میں محفوظ قرآن کریم سے آیت سجدہ سنے تو سجدہ تلاوت کا کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *سجدہ تلاوت اس وقت مسنون ہوتا ہے جب کہ قرآن کریم کی تلاوت میں پڑھنے والے کا قصد شامل ہو اگر پڑھنے والے کی تلاوت میں قصد نہ ہو تو آیت سجدہ پڑھنے اور سننے پر سجدہ تلاوت مشروع نہیں ہوتا جیسے بھول کر ایسے ہی پڑھنے والا، سکھایا ہوا پرندہ نیز ہر وہ جامد چیز جس سے آیت سجدہ کا صدور ہو، لہذا ان سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مسنون نہیں.*
    *اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون میں محفوظ قرآن مجید کی یا کسی پروگرام کی محفوظ تلاوت شدہ آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مشروع ومسنون نہیں ہوگا.اس لئے کہ اس میں بھی قصد نہیں پایا جاتا ہے.*
   *لہذا اگر کوئی شخص موبائل فون میں محفوظ ایڈیو یا ویڈیو سے آیت سجدہ سنے تو اس سے سجدہ تلاوت مسنون نہیں ہوگا.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ومثل السكران المجنون والساهي والنائم والطيور المعلمة كالدرة ونحوها... إما حيوان أو جماد وكل منهما لا يسجد لقراءته.*
*( حاشیة الجمل :٤٧٠/١)*

*قراءة النائم والجنب والسكران والساهي ونحو الدرة من الطيور المعلمة فلا يسن السجود لسماع قرائتهم؛ لعدم مشروعيتها وعدم قصدها. قال الكردي : عدم السجود لسماع قراءة الجماد مطلقاً. (المنهاج القويم مع حاشية الترمسى :٤٧٠/٣)*

*أن تكون القراءة مشروعة: فإن كانت محرمة كقراءة الجنب، أو مكروهة كقراءة المصلي في حال الركوع مثلا، فلا يسن السجود للقارئ ولا للسامع.*
*ثانيا ـ أن تكون مقصودة: فلو صدرت من ساه ونحوه كالطير وآلة التسجيل، فلا يشرع السجود.*
*( الفقه الإسلامي وأدلته ١١٣٢/٢)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر،مفتی اسحاق پٹیل ،مفتی ضمیر نجے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

موبائل فون سے آیت سجدہ سنے پر سجدہ تلاوت

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *موبائل فون میں محفوظ قرآن کریم سے آیت سجدہ سنے تو سجدہ تلاوت کا کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *سجدہ تلاوت اس وقت مسنون ہوتا ہے جب کہ قرآن کریم کی تلاوت میں پڑھنے والے کا قصد شامل ہو اگر پڑھنے والے کی تلاوت میں قصد نہ ہو تو آیت سجدہ پڑھنے اور سننے پر سجدہ تلاوت مشروع نہیں ہوتا جیسے بھول کر ایسے ہی پڑھنے والا، سکھایا ہوا پرندہ نیز ہر وہ جامد چیز جس سے آیت سجدہ کا صدور ہو، لہذا ان سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مسنون نہیں.*
    *اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون میں محفوظ قرآن مجید کی یا کسی پروگرام کی محفوظ تلاوت شدہ آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مشروع ومسنون نہیں ہوگا.اس لئے کہ اس میں بھی قصد نہیں پایا جاتا ہے.*
   *لہذا اگر کوئی شخص موبائل فون میں محفوظ ایڈیو یا ویڈیو سے آیت سجدہ سنے تو اس سے سجدہ تلاوت مسنون نہیں ہوگا.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ومثل السكران المجنون والساهي والنائم والطيور المعلمة كالدرة ونحوها... إما حيوان أو جماد وكل منهما لا يسجد لقراءته.*
*( حاشیة الجمل :٤٧٠/١)*

*قراءة النائم والجنب والسكران والساهي ونحو الدرة من الطيور المعلمة فلا يسن السجود لسماع قرائتهم؛ لعدم مشروعيتها وعدم قصدها. قال الكردي : عدم السجود لسماع قراءة الجماد مطلقاً. (المنهاج القويم مع حاشية الترمسى :٤٧٠/٣)*

*أن تكون القراءة مشروعة: فإن كانت محرمة كقراءة الجنب، أو مكروهة كقراءة المصلي في حال الركوع مثلا، فلا يسن السجود للقارئ ولا للسامع.*
*ثانيا ـ أن تكون مقصودة: فلو صدرت من ساه ونحوه كالطير وآلة التسجيل، فلا يشرع السجود.*
*( الفقه الإسلامي وأدلته ١١٣٢/٢)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر،مفتی اسحاق پٹیل ،مفتی ضمیر نجے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

موبائل فون سے آیت سجدہ سنے پر سجدہ تلاوت

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *موبائل فون میں محفوظ قرآن کریم سے آیت سجدہ سنے تو سجدہ تلاوت کا کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *سجدہ تلاوت اس وقت مسنون ہوتا ہے جب کہ قرآن کریم کی تلاوت میں پڑھنے والے کا قصد شامل ہو اگر پڑھنے والے کی تلاوت میں قصد نہ ہو تو آیت سجدہ پڑھنے اور سننے پر سجدہ تلاوت مشروع نہیں ہوتا جیسے بھول کر ایسے ہی پڑھنے والا، سکھایا ہوا پرندہ نیز ہر وہ جامد چیز جس سے آیت سجدہ کا صدور ہو، لہذا ان سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مسنون نہیں.*
    *اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون میں محفوظ قرآن مجید کی یا کسی پروگرام کی محفوظ تلاوت شدہ آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مشروع ومسنون نہیں ہوگا.اس لئے کہ اس میں بھی قصد نہیں پایا جاتا ہے.*
   *لہذا اگر کوئی شخص موبائل فون میں محفوظ ایڈیو یا ویڈیو سے آیت سجدہ سنے تو اس سے سجدہ تلاوت مسنون نہیں ہوگا.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ومثل السكران المجنون والساهي والنائم والطيور المعلمة كالدرة ونحوها... إما حيوان أو جماد وكل منهما لا يسجد لقراءته.*
*( حاشیة الجمل :٤٧٠/١)*

*قراءة النائم والجنب والسكران والساهي ونحو الدرة من الطيور المعلمة فلا يسن السجود لسماع قرائتهم؛ لعدم مشروعيتها وعدم قصدها. قال الكردي : عدم السجود لسماع قراءة الجماد مطلقاً. (المنهاج القويم مع حاشية الترمسى :٤٧٠/٣)*

*أن تكون القراءة مشروعة: فإن كانت محرمة كقراءة الجنب، أو مكروهة كقراءة المصلي في حال الركوع مثلا، فلا يسن السجود للقارئ ولا للسامع.*
*ثانيا ـ أن تكون مقصودة: فلو صدرت من ساه ونحوه كالطير وآلة التسجيل، فلا يشرع السجود.*
*( الفقه الإسلامي وأدلته ١١٣٢/٢)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر،مفتی اسحاق پٹیل ،مفتی ضمیر نجے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

پیر، 27 اگست، 2018

بذریعہ موبائل فون نکاح کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٢*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *بذریعہ موبائل فون نکاح کا شرعاً کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

     *نکاح میں ایجاب وقبول اہم رکن ہے اور جانبین کا ایک مجلس میں ہونا اور ایک دوسرے کو نظر آنا ضروری ہے نیز دو گواہ کا مجلس میں حاضر رہنا اور ایجاب وقبول کو اسی مجلس میں سننا ضروری ہے*
   *اور یہ بات واضح ہے کہ یہ تمام باتیں موبائل فون پر بات چیت سے حاصل نہیں ہوتی اس لئے موبائل فون سے بطور بات چیت نکاح منعقد نہیں ہوگا.*
   *البتہ عاقدین میں سے ایک بذریعہ موبائل کسی کو وکیل بنائے اور وہ وکیل اس کی طرف سے مجلس میں گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرے تو اس طرح وکالت کے ساتھ نکاح درست ہوجائے گا. (١)*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ويدل على جواز الوكالة أن النكاح عقد يقصد فيه المعاوضة فصحت فيه الوكالة كالبيوع،*
... *فإذا تقرر جواز الوكالة في النكاح جاز أن يوكل الولي والزوج، ولم يجز أن يوكل الزوجة، لأنه لا حق للزوجة في مباشرة العقد فلم يصح منها التوكيل فيه،*
*(الحاوي الكبير :١١٣/٩)*
*فلو قال لغائب: زوجتك ابنتي، أو قال: زوجتها من فلان ثم كتب فبلغه الكتاب أي الخبر فقال: قبلت لم يصح،*
*(مغني المحتاج :٢٣٠/٤)*
*بل لو قال لغائب زوجتك ابنتي، أو قال زوجتها من فلان ثم كتب فبلغه الكتاب، أو الخبر فقال قبلت لم يصح كما صححه في أصل الروضة في الأولى، وسكت عن الثانية لأنها سقطت من كلامه، إلى أن فرق في شرح الروض بين ما هنا والبيع بأنه أوسع بدليل انعقاده بالكناية وثبوت الخيار فيه انتهى*
*(حاشية الشبراملسي :٢١٢/٦)*
*( ١ ) موبائل فون... احکام ومسائل*

             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه  : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی ضمیر نجے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

اتوار، 13 مئی، 2018

سلام لکھتے وقت Asw کے بجائے مکمل "السَّلامُ عَلَــيــْكُمْ وَرَحْمَـــةُاللهِ وَبَرَكَـاتُهُ" لکھنا چاہیے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٦*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *میسیچ میں سلام لکھتے وقت خالی Asw, As لکھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ؟اور اس کا ہمیں جواب دینا ضروری ہے یا نہیں؟*
*المستفتي: وسیم ادولکر رتناگری*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *.آج کل واٹس آپ، فیس بک وغيرہ وغیرہ پر Asw, as اور اس طرح کے حروف سے سلام کرنے کا رواج عام ہوتے جارہا ہے، اس طرح کے حروف کے ساتھ سلام کرنا اپنے مسلمان بھائی کو دعا دینے میں کنجوسی اور سلام کے اصل منشا کے خلاف ہے اور ثواب میں کمی کا باعث ہے اس لیے میسچ کرنے والوں پر ضروری ہے کہ مکمل "السَّلامُ عَلَــيــْكُمْ وَرَحْمَـــةُاللهِ وَبَرَكَـاتُهُ " سے اپنی بات چیت کی ابتداء کرے، فقط Asw، یا as وغیرہ الفاظ پر اکتفاء نہ کریں.*
       *اس طرح الفاظ کے سلام گرچہ کامل سلام نہیں ہے اور اس پر کامل سلام کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ یہ ناقص سلام کے حروف ہیں لیکن چونکہ مخاطب یعنی سامنے والا سمجھ رہا ہے کہ اس نے مجھے سلام کیا ہے اس لیے اس طرح Asw, as وغیرہ کے سلام کا بھی جواب دینا ضروری ہے، لہذا جواب دینے والا مکمل سلام سے قولاً یا تحریرا جواب دے گا.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*علامہ زکریا انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*وهو) أي السلام ابتداء وردا (بالتعريف أفضل) منه بالتنكير فيكفي سلام عليكم وعليكم سلام وإن كانا مفضولين.*
*(وزيادة ورحمة الله وبركاته) على السلام (ابتداء وردا أكمل) من تركها وجاء فيه في الابتداء حديث حسن رواه أبو داود وغيره.*
*... (ولو سلم بالعجمية جاز إذا فهم) المخاطب وإن قدر على العربية (ووجب الرد) ؛ لأنه يسمى سلاما.*
*(اسنى المطالب : ١٨٤/٤)*
 *علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
  *ولو سلم بالعجمية جاز إن أفهم المخاطب وإن قدر على العربية، ويجب الرد؛ لأنه يسمى سلاما.*
*(مغنى المحتاج :١٧/٦)*
*علامہ عبدالحمید الشروانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
   *ولو سلم بالعجمية جاز وإن قدر على العربية حيث فهمها المخاطب ووجب الرد*
*(حواشي الشرواني وابن قاسم العبادي على التحفة :٢٢٥/٩)*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی زبیر پورکر*

📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351

ہفتہ، 12 مئی، 2018

گروپ میں کسی ایک کا جواب دینا کافی ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *اگر کوئی شخص گروپ میں سلام کرے تو کیا ہر شخص کو جواب دینا ضروری ہے ؟*
*المستفتي : توصیف قاضی*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *اگر کوئی شخص گروپ میں سلام کرے تو گروپ میں سے کسی ایک کا جواب دینا واجب ہے اس سلام کا جواب دینے میں بہتر یہ ہے کہ کوئی ایک غائبانہ جواب کے ساتھ تحریرا بھی جواب دے، گروپ میں سے کسی ایک کے جواب دینے سے تمام ممبران کی طرف سے فرض ساقط ہوگا، گروپ کے ہر ہر ممبر کا جواب دینا ضروری نہیں ہے البتہ گروپ میں سے کسی کے جواب نہ دینے کی صورت میں پورے گروپ والے گنہگار ہونگے.*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*چنانچہ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*فإن سلم على واحد، وجب عليه الرد، وإن سلم على جماعة، فالرد في حقهم فرض كفاية، فإن رد أحدهم، سقط الحرج عن الباقين، وإن رد الجميع، كانوا مؤدين للفرض، سواء ردوا معا أو متعاقبين، فإن امتنعوا كلهم، أثموا،*
*(روضة الطالبين : ٢٢٦/١٠)*
     *علامہ خطیب شربیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
*ويجزئ عن الجلوس أن يرد أحدهم " والمراد منهم هو المختص بالثواب وسقط الحرج عن الباقين، وإن أجابوا كلهم كانوا مؤدين للفرض، سواء كانوا مجتمعين أم مترتبين، كصلاة الجنازة،*
*(مغني المحتاج :١٤/٦)*     

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر*

📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.in
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے :*
8095578351

منگل، 8 مئی، 2018

واٹس ایپ پر سلام کا جواب کیسے دے؟

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١١٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *اگر کسی نے واٹس آپ پر سلام کیا اور میسیچ پڑھتے وقت اگر ہم نے اس کا جواب زبانی دیا تو جواب ادا ہوجائے گا یا پھر میسچ کے ذریعہ وعلیکم السلام لکھنا پڑے گا؟*
*المستفتي: وسیم ادولکر رتناگری*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *سلام کا مطلب سلامتی کی دعا دینا ہے اور سلام سے آپس میں محبت وانسیت پیدا ہوتی ہے اسی لیے کسی کے سلام کرنے پر چاہے سامنے والا قولاً سلام کرے یا کتابتاً بہرصورت سلام کا جواب دینا واجب قرار دیا گیا ہے.*

بدھ، 6 دسمبر، 2017

قرآنی آیات اسکرین پر ظاہر ہونے کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کو بلا وضو چھونا جائز نہیں ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *موبائل فون کی اسکرین پر جب قرآنی آیات ظاہر ہوں اس وقت اسکرین اور موبائل فون کو ہاتھ لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

  *موبائل فون کی اسکرین ایک تختی کے مانند ہے، جس پر قرآن کی آیت لکھنے کی وجہ سے وہ تختی مصحف کے حکم میں ہوجاتی ہے اور بلاوضو اس تختی، حاشیہ، بین السطور، اس سے متصل جلد اور غلاف وغیرہ کو چھونا حرام ہوجاتا ہے.*
   *لہذا موبائل فون کی اسکرین پر آیات مبارکہ جب نمایاں اور ظاہر ہورہی ہوں (جیسا کہ آج کل کے دور میں موبائل فون میں مستقل قرآن کا ایپ آتا ہے اس کو کھولنے پر اسکرین پر مصحف کا پورا مکمل صفحہ نمایاں اور ظاہر ہوجاتا ہے اس ایپ کو کھولا جائے اور اسکرین پر قرآنی آیات ظاہر ہوں ) تو اس وقت موبائل فون اور اسکرین کا حکم مصحف کی طرح ہوجاتا ہے اس لیے موبائل فون کی اسکرین پر محض آیات مبارکہ نمایاں ہونے کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کو بلا وضو چھونا جائز نہیں ہے.*