قربانی کے مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
قربانی کے مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 11 اگست، 2019

تین حصہ قربانی اور چار حصہ میں عقیقہ کرنا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللّٰهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٢٤٥*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

📜 *السؤال :*
    *گائے کے سات حصے میں سے تین حصے قربانی کے نام پر اور چار عقیقہ کے نام پر یا صدقہ کے نام پر قربانی کرسکتے ہیں؟*

*========================*
                  *حامدًاومصلّیاًومسلّماً :*
*أما بعد :*
📃 *الجواب وبالله التوفيق*
         *گائے، بیل، بھینس اور اونٹ میں سات حصہ ہوتے ہیں جس میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں چاہے اس میں تمام افراد سنت قربانی کرنے کے لئے شریک ہوں یا فرض یا بعض عقیقہ کرنے والے ہوں یہ سب جائز ہے.*
    *لہذا ایک بڑے جانور میں تین حصہ قربانی کے نام پر اور چار عقیقہ کے نام پر یا صدقہ کے نام پر قربانی کرسکتے ہیں.*
         

          💎 *و اللّٰه أعـــلـــم بالصواب*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖
       *اﻟﺒﺪﻧﺔ ﺗﺠﺰﺉ ﻋﻦ ﺳﺒﻌﺔ ﻭﻛﺬﻟﻚ اﻟﺒﻘﺮﺓ ﺳﻮاء ﻛﺎﻧﻮا ﻣﻀﺤﻴﻦ ﺃﻭ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻣﻀﺤﻴﺎ ﻭﺑﻌﻀﻬﻢ ﻳﺮﻳﺪ اﻟﻠﺤﻢ ﻭﺳﻮاء ﻛﺎﻧﻮا ﺃﻫﻞ ﺑﻴﺖ ﺃﻭ ﺃﺑﻴﺎﺕ ﻭﺳﻮاء ﻛﺎﻧﺖ ﺃﺿﺤﻴﺔ ﺗﻄﻮﻉ ﺃﻭ ﻣﻨﺬﻭﺭﺓ*
*المجموع : ٤٢٢/٨*
  📖 🖋 *کتبه وأجابه : محمد اسجد محمد شفیع بھٹکلی*

☑ *أيده :مفتی عمر ملاحی ، مفتی ضمیر نجے*

📲 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📲
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*

🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/6wqtFiJVtAT2RBxO3qbjzO

ہفتہ، 25 اگست، 2018

تیرہ ذو الحجہ کے غروب شمس تک قربانی کرنا صحیح ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٤٧*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ قربانی ساڑھے تین دن یعنی تیرہ(١٣)ذی الحجہ کی دوپہر تک کرسکتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے. ؟ اور عصر بعد قربانی کرنے سے قربانی صحیح ہوگی؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

      *شوافع کے نزدیک قربانی کا وقت چار دن ہے، دس (١٠) ذو الحجہ اور ایام تشریق کے آخری دن تک یعنی تیرہ( ١٣ )ذو الحجہ کے سورج غروب ہونے تک قربانی کا وقت باقی رہتا ہے.*
      *لہذا چوتھے دن یعنی تیرہ (١٣) ذو الحجہ کی شام عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے تک قربانی کرنا صحیح ہے اور قربانی صحیح ہوجائے گی.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ويخرج وقت التضحية بغروب الشمس في اليوم الثالث من أيام التشريق.*
*(روضة الطالبين :٢٠٠/٣)*
*ويستمر وقت الذبح (إلى غروب الشمس من آخر أيام التشريق)، وهي الثلاثة المتصلة بعاشر ذي الحجة.*
*(فتح القريب المجيب :٣١٣/١)*
*إلى آخر أيام التشريق أي يمتد وقتها إلى آخر أيام التشريق، أي غروبها سواء ذبح ليلا أو نهارا لكنه يكره في الليل.*
*فلو ذبح بعد آخر أيام التشريق لم يقع أضحية.*
*(إعانة الطالبين :٣٧٧/٢)*
           
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی عمر ملاحی ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

جمعہ، 24 اگست، 2018

قربانی کا مکمل گوشت اپنے پاس رکھنا صحیح نہیں ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥١*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *قربانی کا گوشت پورے کے پورے اپنے پاس روکے رکھنا جائز ھے یا نہیں؟ یا ان میں سے کچھ صدقہ کرنا ضروری ھے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*
 
    *اگر قربانی واجب ہو مثلاً نذر کی قربانی تو ایسی قربانی کے مکمل گوشت کو فقراء پر تقسیم کرنا واجب ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی میت کی وصیت کی وجہ سے قربانی کر رہا ہو تو ایسی قربانی کا بھی مکمل گوشت فقراء پر تقسیم کیا جائے گا.*
    *اور اگر کوئی شخص سنت قربانی کررہا ہو جیسے عیدالاضحٰی کی قربانی، تو ایسی قربانی کے گوشت میں سے تھوڑا بہت گوشت فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی فقیر کو دئے بغیر مکمل گوشت خود اپنے پاس ہی رکھ لیا تو جتنا گوشت صدقہ کرنا واجب تھا اس کے بدلے دوسرا گوشت صدقہ کرنا لازم ہوگا.*
     *لہذا وصیت اور نذر کے علاوہ سنت قربانی ہو تو قربانی کا پورا گوشت اپنے پاس روکے رکھنا جائز نہیں ہے بلکہ کچھ نہ کچھ فقیر کو دینا واجب ہے.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*والقول الثاني) وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين وهو الأصح عند جماهير المصنفين منهم المصنف في التنبيه يجب التصدق بشئ يطلق عليه الاسم لأن المقصود إرفاق المساكين فعلى هذا إن أكل الجميع لزمه الضمان وفي قدر الضمان خلاف (المذهب) منه أن يضمن ما ينطلق عليه الاسم...*
*(المجموع :٤١٦/٨)*
*(والأصح وجوب التصدق ببعضها) ولو جزءا يسيرا من لحمها بحيث ينطلق عليه الاسم على الفقراء، ولو واحدا*
*(مغني المحتاج :١٣٥/٦)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه  : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی ضمیر نجے ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی ،مفتی عاقب کوکاٹے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

والد اپنے چھوٹے بچے کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *کیا ایک باپ اپنے ایک سالہ بچے کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*
 
   *قربانی بالغ، عاقل، اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر مسنون ہے لہذا نابالغ بچہ قربانی کا مخاطب نہیں ہے البتہ اگر اس کا ولی جیسے بچہ کا والد اس بچہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو اپنے مال سے قربانی کرسکتا ہے اور قربانی درست ہوجائے گی.*
  *معلوم ہوا کہ اگر ایک سالہ بچے کی طرف سے اس کا والد اپنے مال سے قربانی کرنا چاہے تو قربانی کرسکتا ہے.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖

*وللولي الأب فالجد - لا غير لأنه لا يستقل بتمليكه فتضعف ولايته عنه في هذا - التضحية من ماله عن محجوره كما له إخراج الفطرة من ماله عنه ولا ترد عليه هذه أيضا لأنه قائم مقامه.*
*(تحفة المحتاج :٣٦٧/٩)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ، مفتی ضمیر نجے ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/DHLRlCNjRww311aqad6nxE