‏طہارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏طہارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 21 مئی، 2019

کنویں میں سانپ گر جائے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللّٰهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٢٠٧*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

📜 *السؤال :*
    *ہمارے علاقے کے ایک کنویں میں سانپ مرگیا ہے اب اس کنویں کے پانی کا کیا حکم ہے؟*

*========================*
                  *حامدًاومصلّیاًومسلّماً :*
*أما بعد :*
📃 *الجواب وبالله التوفيق*

       *اگر کسی کنویں میں سانپ گرے اور زندہ نکلے یا مرا ہوا نکلے لیکن اس کے اعضاء صحیح سالم ہو اس طور پر کہ اس میں تغیر پیدا نہ ہوا ہو تو عموماً پانی میں کوئی تغير نہیں ہوتا اس لئے اس صورت میں کنویں کا پانی پاک ہوگا لیکن احتیاطاً چند ڈول پانی نکالا جائے تو بہتر ہے.*
      *اور اگر سانپ مرنے کے بعد اس کا جسم صحیح سالم نہ ہوبلکہ تغیر پیدا ہوا ہو تو اگر کنویں کا پانی دو قلے سے کم ہو تو اس سے کنویں کا پانی ناپاک ہوجائے گا اس لئے کہ سانپ ایسا درندہ ہے جس میں بہنے والا خون ہوتا ہے لہذا ایسے پانی کو پاک کرنے کے لئے اتنا پانی کنویں میں ملایا جائے گا کہ پانی قلتین کی مقدار کو پہنچ جائے اور اس میں تغیر بھی باقی نہ رہے.*
    *اور اگر سانپ ایسے کنویں میں گرا ہو جس میں پانی پہلے سے قلتین کی مقدار میں ہو تو اگر پانی میں سانپ کے گرنے کی وجہ سے تغیر پیدا ہوا ہو تو پانی ناپاک ہوگا ورنہ نہیں اور اگر تغیر کی وجہ سے ناپاک ہوا ہو تو پانی اس وقت پاک ہوگا جب پانی سے تغیر خود بخود ختم ہوجائے یا پانی ملانے سے تغیر ختم ہوجائے.*
*نوٹ : چونکہ سانپ میں زہر رہتا ہے اس لئے فقھی اعتبار سے پانی پاک ہونے کے بعد بھی پانی کو مکمل نکال کر صاف کیا جائے تاکہ کچھ بیماری وغیرہ لاحق نہ ہو.* 

          💎 *و اللّٰه أعـــلـــم بالصواب*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*والمراد بما (لا نفس لها سائل) عند قتلها، أو شق عضو من أعضائها، كالذباب والبعوض والزنبور والقمل والبراغيث والنحل والنمل والخنفساء والبق، ودود الفواكه والخل والجبن، وبنات وردان، والعقارب.... والأصح: أن الوزغ منها، دون الحيات والضفادع.*
*النجم الوهاج :٢٤١/١)*
*ولا تنجس قلتا الماء بملاقاة نجس،... فإن غيره .. فنجس، فإن زال تغيره بنفسه أو بماء .. طهر،... أو بمسك وزعفران .. فلا، وكذا تراب وجص في الأظهر.... والماء القليل إذا تنجس يطهر ببلوغه قلتين - ولو بماء متنجس - حيث لا تغير به، والكثير يطهر بزوال تغيره بنفسه أو بماء زيد عليه... أو نقص عنه وكان الباقي كثيرا...*
*(إعانة الطالبين : ٤٥/١)*
*(ﻣﻬﻤﺔ)*
   *ﺇﺫا ﻗﻞ ﻣﺎء اﻟﺒﺌﺮ ﻭﺗﻨﺠﺲ ﻟﻢ ﻳﻄﻬﺮ ﺑﺎﻟﻨﺰﺡ؛ ﻷﻧﻪ ﻭﺇﻥ ﻧﺰﺡ ﻓﻘﻌﺮ اﻟﺒﺌﺮ ﻳﺒﻘﻰ ﻧﺠﺴﺎ، ﻭﻗﺪ ﺗﺘﻨﺠﺲ ﺟﺪﺭاﻥ اﻟﺒﺌﺮ ﺃﻳﻀﺎ ﺑﺎﻟﻨﺰﺡ ﺑﻞ ﺑﺎﻟﺘﻜﺜﻴﺮ ﻛﺄﻥ ﻳﺘﺮﻙ ﺃﻭ ﻳﺼﺐ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﺎء ﻟﻴﻜﺜﺮ ﻭﻟﻮ ﻛﺜﺮ اﻟﻤﺎء، ﻭﺗﻔﺘﺖ ﻓﻴﻪ ﺷﻲء ﻧﺠﺲ ﻛﻔﺄﺭﺓ ﺗﻤﻌﻂ ﺷﻌﺮﻫﺎ ﻓﻬﻮ ﻃﻬﻮﺭ ﻭﻳﻌﺴﺮ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻪ ﺑﺎﻏﺘﺮاﻑ ﺷﻲء ﻣﻨﻪ ﻛﺪﻟﻮ ﺇﺫ ﻻ ﻳﺨﻠﻮ ﻣﻤﺎ ﺗﻤﻌﻂ ﻓﻴﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﻳﺨﺮﺝ اﻟﻤﺎء ﻛﻠﻪ ﻟﻴﺨﺮﺝ اﻟﺸﻌﺮ ﻣﻌﻪ ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻧﺖ اﻟﻌﻴﻦ ﻓﻮاﺭﺓ ﻭﺗﻌﺴﺮ ﻧﺰﺡ اﻟﺠﻤﻴﻊ ﻧﺰﺡ ﻣﺎ ﻳﻐﻠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﻈﻦ ﺃﻥ اﻟﺸﻌﺮ ﻛﻠﻪ ﺧﺮﺝ ﻣﻌﻪ ﻓﺈﻥ اﻏﺘﺮﻑ ﻣﻨﻪ ﻗﺒﻞ اﻟﻨﺰﺡ ﻭﻟﻢ ﻳﺘﻴﻘﻦ ﻓﻴﻤﺎ اﻏﺘﺮﻓﻪ ﺷﻌﺮا ﻟﻢ ﻳﻀﺮ*
*(حواشي الشرواني وابن قاسم العبادي على التحفة :٧٧/١)*       
  📖 🖋 *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا، مفتی خالد خان*

☑ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ، مفتی اسحاق پٹیل ، مفتی صابر ڈانگے*

📲 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📲
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*

🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*

*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/BaXLlYj7xDf79GZxHOKlsG

پیر، 7 جنوری، 2019

اے سی(A. C)سے نکلنے والے پانی سے وضو کرنا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٦١*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
    *اے سی (A. C ) سے نکلنے والے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

       *طہارت ہر اس پانی سے حاصل کی جاسکتی ہے جس پر بغیر کسی قید احترازی کے پانی کا اطلاق ہو چاہے وہ پانی آسمان سے ہو یا زمین سے نکلے یا کسی اور جگہ سے، بہر صورت جس پر پانی کا اطلاق ہوگا اور اس پانی کا رنگ،بو اور مزا نہ بدلا ہو تو اس سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے.*
      *اے سی سے جو پانی نکلتا ہے اس کی مثال اس پانی کی سی ہے جو ٹھنڈے پانی کے گلاس کے باہر اور سردی کے موسم میں ٹھنڈک سے کسی چیز پر جمع ہوتا ہے اس جمع ہونے والے پانی کو پانی کہا جاتا ہے اور اس پانی سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے. بعینہ اے سی (A. C) سے جو پانی نکلتا ہے اس کو بھی پانی ہی کہا جاتا ہے لہذا اگر اے سی سے نکلنے والے پانی کا مزہ، بو یا رنگ نہ بدلا ہو تو اس پانی سے بھی طہارت حاصل کی جاسکتی ہے؟*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*البخار الخارج من النجاسة كالكنيف طاهر وكذا الريح الخارجة من الدبر كالجشاء؛ لأنه لا يتحقق أنه من عين النجاسة لجواز أن تكون الرائحة الكريهة الموجودة فيه لمجاورته النجاسة لا أنه من عين النجاسة*
*(حاشية على أسنى:٢٧٨/١)*
*(وهو ما يقع عليه اسم ماء بلا قيد)،... أو كان رشح بخار الماء؛ لأنه ماء حقيقة،*
*(مغني المحتاج : ١١٥/١)*
*أو جمع من ندى*
*وهو الماء الذي يقع على الزرع والحشيش الأخضر خصوصا في أيام الربيع كردي.*
*(حواشي الشرواني وابن قاسم العبادي على التحفة : ٦٧/١)*
*تصريح بأن هذا الرشح يسمى ماء وهو كذلك على المعتمد لأنه ماء حقيقة وينقص الماء بقدره كما صححه النووي في مجموعه وغيره قال في الهادي: ولا يجوز رفع حدث ولا إزالة نجس إلا بالماء المطلق أو بخار الماء وإن قال الرافعي: نازع فيه عامة الأصحاب وقال: يسمونه بخارا أو رشحا لا ماء على الإطلاق اهـ شرح خ ط على المنهاج مع زيادة اهـ خضر.*
*وفي كلام المصنف حزازة على جعله الرشح من البخار مع أنه من الماء فلو قال: وإن رشح من الماء بسبب البخار الذي من حرارة النار لكان أولى فتأمل اهـ م د على التحرير.*
*(حاشية الجمل :٢٩/١)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے،مفتی ضمیر نجے، مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

بدھ، 2 جنوری، 2019

بلی یا کسی پالتو جانور کا پیشاب بدن کو لگے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
    *بلی یا کسی پالتو جانور کا پیشاب بدن کو لگے تو غسل کرنا ضروری ہے.؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

      *تمام جانوروں کا بول (پیشاب) نجس (ناپاک) ہے لہذا اگر کتے اور خنزیر کے علاوہ کسی بھی جانور کا پیشاب کسے کے بدن یا کپڑے کو لگ جائے تو جہاں پیشاب لگا ہے اتنے حصہ کو ایک مرتبہ دھونا ضروری ہے، بدن کے ایک حصہ کو لگنے سے مکمل بدن کا غسل لازم نہیں ہوگا.*
    *اور اگر خنزیر کا یا کتے کا پیشاب کسے کے بدن یا کپڑے کو لگ جائے تو سات مرتبہ اور اس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا ضروری ہوگا.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
   *أما حكم المسألة في الأبوال فهي أربعة أنواع بول الآدمي الكبير وبول الصبي الذي لم يطعم وبول الحيوانات المأكولة وبول غير المأكول وكلها نجسة عندنا وعند جمهور العلماء*
*(المجموع :٨٤٥/٢)*
*(ويغسل من سائر) أي باقي (النجاسات) المخففة والمتوسطة (مرة) وجوبا تأتي عليه (واحدة) وقد مر دليل ذلك وكيفية الغسل عند قول المصنف وغسل جميع الأبوال والأرواث واجب (والثلاث) وفي بعض النسخ والثلاثة بالتاء (أفضل) أي من الاقتصار على مرة فيندب أن يغسل غسلتين بعد الغسلة المزيلة لعين النجاسة لتكمل الثلاث...*
*وقوله (وغسل جميع الأبوال والأرواث واجب) أي من مأكول وغيره أراد به النجاسة المتوسطة كالبول والغائط بدليل ذكره النجاسة المخففة والمغلظة بعد ذلك ويكفي غسل ذلك مرة لحديث*
*(الإقناع : ٩٨,٩٣/١)*
*قال أصحابنا لا فرق بين ولوغ الكلب وغيره من أجزائه فإذا أصاب بوله أو روثه أو دمه أو عرقه أو شعره أو لعابه أو عضو منه شيثا طاهرا مع رطوبة أحدهما وجب غسله سبعا إحداهن بالتراب... والمشهور في المذهب أنه يجب سبعا مع التراب وبه قطع الجمهور لأنه أبلغ في التنفير من مقاربتها واقتنائها والله أعلم*
*(المجموع :٦٨٥/٢)*
*وفيما سوى الولوغ وجه شاذ أنه يكفي غسله مرة، كسائر النجاسات.*
*(روضة الطالبين :٢٣/١)*
*ثم لا فرق بين أن يتنجس بولوغه أو بوله أو دمه أو عرقه أو شعره أو غير ذلك من جميع أجزائه وفضلاته فإنه يغسل سبعا إحداهن بالتراب قال النووي في الروضة وفي وجه شاذ أنه يكفي في غسل ما سوى الولوغ مرة كغسل سائر النجاسات*
*(كفاية الأخيار : ١٧/١)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے،مفتی عبدالرؤف کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

جمعرات، 5 جولائی، 2018

بلا وضو اسکرین پر ظاہر قرآنی آیات چھونا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
 *موبائل فون کی اسکرین پر جب قرآنی آیات ظاہر ہوں اس وقت اسکرین اور موبائل فون کو ہاتھ لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

  *موبائل فون کی اسکرین ایک تختی کے مانند ہے، جس پر قرآن کی آیت لکھنے کی وجہ سے وہ تختی مصحف کے حکم میں ہوجاتی ہے اور بلاوضو اس تختی، حاشیہ، بین السطور، اس سے متصل جلد اور غلاف وغیرہ کو چھونا حرام ہوجاتا ہے.*
   *لہذا موبائل فون کی اسکرین پر آیات مبارکہ جب نمایاں اور ظاہر ہورہی ہوں (جیسا کہ آج کل کے دور میں موبائل فون میں مستقل قرآن کا ایپ آتا ہے اس کو کھولنے پر اسکرین پر مصحف کا پورا مکمل صفحہ نمایاں اور ظاہر ہوجاتا ہے اس ایپ کو کھولا جائے اور اسکرین پر قرآنی آیات ظاہر ہوں ) تو اس وقت موبائل فون اور اسکرین کا حکم مصحف کی طرح ہوجاتا ہے اس لیے موبائل فون کی اسکرین پر محض آیات مبارکہ نمایاں ہونے کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کو بلا وضو چھونا جائز نہیں ہے.*

جمعہ، 22 جون، 2018

علاتی اور اخیافی بھانجی کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٤٦*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *کیا علاتی اور اخیافی بھانجی کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*
 
    *اجنبی عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اس کے علاوہ محرم رشتہ دار کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور محرم سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح کرنا حرام ہوتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ بھانجی اور بھتیجی (چاہے وہ علاتی ہوں یا اخیافی) محرم رشتہ داروں میں سے ہے لہذا ان سے بھی نکاح حرام ہے اور ان کو چھونے سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا.*
     

بدھ، 20 جون، 2018

کون کی مہندی سے وضو صحیح ہوگا؟

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٤٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
   
   *کیا مہندی کی ڈیزائن ہاتھوں پر یا پیروں پر بنانے کے بعد وضوء اور غسل صحیح ہوجائے گا؟کیونکہ مہندی ڈیزائن کے جو کون آتے ہیں وہ پہلے کی طرح نہیں آتے جیسے پہلے آیا کرتے تھے ان کون سے جب ڈیزائن بنائی جاتی ہیں اور جب وہ کچھ دنوں بعد نکلنا شروع ہوجاتی ہے تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں نکلتے ہیں گویا کہ کوئی آئل پینٹ یا اسطرح کی کوئی چیز ہاتھ پر لگانے کے بعد نکل رہی ہو.*

*المستفتي :مولوی عبدالملک قاضی چپلون*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

      *وضو صحيح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پانی اعضاء وضو کے ہر جزو تک پہنچے اور معمولی سا حصہ بھی باقی نہ رہے لہذا اگر کوئی چیز عضو واجب (جس عضو کو دھونا ضروری ہے) تک پانی پہنچانے کے لئے مانع بنے (پانی نہ پہنچے) تو وضو درست نہیں ہوگا.*
   *اس اعتبار سے اگر کوئی ایسا کون (جس میں مہندی ہوتی ہے اور جس سے ہاتھ وغیرہ پر ڈیزائن بنائے جاتے ہیں) استعمال کرے کہ جس کے استعمال کی وجہ سے اعضاء وضو پر جرم (جسم) چڑھ جائے تو یہ صحت وضو کے لئے مانع بنے گا اور وضو اور غسل صحيح نہیں ہوگا لہذا وضو کے صحیح ہونے کے لئے اس لگائے ہوئے ڈیزائن کو ختم کرنا ضروری ہوگا.*
    *اور اگر کوئی کون ایسا ہو کہ جس کے استعمال سے عضو پر جرم (جسم) نہ چڑھے بلکہ صرف مہندی کا اثر اور رنگ ہو جیسا کہ عام طور پر مہندی لگانے سے ہوتا ہے تو اس صورت میں وضو اور غسل ہوجائے گا.*
     

منگل، 21 نومبر، 2017

معمولی تغیر سے پانی پاک ہی رہتا ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

           📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                  📁 *سوال نمبر : ٥٢*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *آج کل جراثیم مارنے کے لیے حکومت کی طرف سے پوٹاشیم دوا ڈالی جاتی ہے جس سے پانی میں کچھ تغير بھی ہوتا ہے تو کیا ایسے پانی سے طہارت حاصل کرسکتے ہیں ؟*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

      *اگر پانی میں کسی ایسی پاک چیز سے کچھ تغیر ہو جس سے وہ پانی ماء مطلق ہی کہلاتا ہو یعنی اسکو پانی ہی کہا جائے، تو ایسے پانی سے طہارت حاصل کر سکتے ہیں.*