اتوار، 25 فروری، 2018

الیکٹرانک بیٹ سے مچھر مارنا درست نہیں ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٤*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *الیکٹرانک بیٹ سے مچھر مارنے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟*
*(المستفتی : غلام السولکر)*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

*شریعت اسلامیہ نے جانوروں، کیڑے مکوڑوں گرچہ جن کا قتل مستحب ہی کیوں نہ ہو آگ سے جلانے کو حرام قرار دیا ہے اور گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے.*

ہفتہ، 24 فروری، 2018

غیر شادی شدہ عورت کا محض زینت کے لیے بھؤں کے بال کاٹنا جائز نہیں ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٣*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *عورت کا اپنے بھؤں(ابرو) کے بال کٹوانے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟*
*(المستفتی : عبدالحکیم کیرلا)*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

*حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جسم گودنے والیوں اور گودوانے والیوں،اور بال اُکھیڑنے والیوں اور اُ کھیڑ وانے والیوں ، اور خوبصورتی کے لئے دانتوں کے درمیان فاصلہ کرنے والیوں،اور اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ہیئت بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے. (١)*

مجمع الإمام الشافعي العالمي کا قیام


💐 *"مجمع الإمام الشافعي العالمي"* *کا قیام مبارک ہو* 💐

    *کل ھند فقه شافعی ـ مشاورتی نشست*                   
               💠 *تاثرات کی روشنی* 💠

✒ *بقلم : محمد اسجد ملپا*

٢٢/فروری ٢٠١٨ بروز جمعرات، مادر علمی جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور کے زیر اہتمام ضیاء پبلک اسکول کے سیمنار ہال میں "کل ھند فقہ شافعی مشاورتی نشست"کے عنوان پر ایک عظیم الشان اور تاریخی اجلاس منعقد ہوا.
 جس میں ریاست کرناٹک، مہاراشٹرا، کیرلا، تملناڈو اور آندھراپردیش سے علماء کرام اور ماہر و تجربہ کار مفتیان عظام کی ایک بڑی جماعت موجود تھی.
جلسہ کا آغاز صبح تقریباً دس بجے حافظ سعود مجاور کی تلاوت قرآن پاک اور حافظ سہیل کی نعت پاک سے ہوا.

*مفتی عبد الکریم ضیائی ندوی*
(استاذ : جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور )
مفتی عبدالکریم نے فقہ شافعی کی اہمیت اور امام شافعی رحمۃ اللہ کا تعارف اور استقبالیہ کلمات پیش کئے.
*قاضی محمد حسین ماہمکر فلاحی*
(استاذ حدیث وفقہ جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن ،جنرل سیکرٹری مجمع الإمام الشافعی العالمی)
قاضی صاحب نے کوکن، اور ازہر کوکن جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن کا تعارف کرتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ جامعہ سے ١٢٠ مفتیان کرام سند افتاء وقضاء حاصل کر چکے ہیں اور ان کی قیمتی تحقیق مقالہ کی شکل میں جامعہ میں موجود ہے، اب مزید آگے بڑھ کر اجتماعی شکل میں ایک کام انجام دینے کی ضرورت ہے،جامعہ حسینیہ شریوردھن کے شعبئہ دارالافتاء سے صدر مفتی نذیر احمد کرجیکر صاحب کی سرپرستی میں ٣ تین ہزار کے قریب قیمتی تحقیقی شافعی فتاوی صادر ہوئے ہیں،ازہر کوکن جامعہ حسینیہ کے شعبئہ مرکزی دارالقضاء کوکن اور اس کی شاخوں سے گیارہ سو ١١٠٠ سے زائد مقدمات کے تحقیقی فیصلے ہوئے ہیں۔  قاضی صاحب نے مولانا عبید اللہ صاحب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا اقدام ہے اللہ اس کو قبول فرمائے.
*مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی*
(قاضی خلیفہ جماعت المسلمين بھٹکل، واستاذ حدیث وفقہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل )
مولانا نے فقہ شافعی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے أصحاب الحدیث اور أصحاب الرأي دونوں سے مل کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا. پھر بھٹکل کے دارالقضاء کا تعارف اور اسکی اہمیت کو بھی بیان فرمایا، اخیر میں فرمایا کہ فقہ میں تمام مسائل کا حل موجود ہے قیامت تک جو مسائل پیش آئیں گے شریعت مطہرہ نے اسکو بیان کردیا ہے یہ صرف دعوی ہی نہیں بلکہ ہر زمانے کے فقھاء نےانہیں کتابوں سے ہر زمانے کے نئے مسائل کا حل کیا ہے اور اسی سے مسائل استنباط کئے ہیں. پھر مولانا عبیداللہ صاحب کے اقدام کو قابل تحسین قرار دیا.
*مفتی عمر ملاحی حسینی(حیدرآباد)*
     موجودہ دور میں نئے مسائل پر کام کرنے کی انتہائی ضرورت ہے، آئے دن نئے نئے مسائل کا انبار بنتے جارہا ہے جس کو حل کرکے امت کی رہنمائی کرنا ہمارا اہم فریضہ ہے، اس تعلق سے موجودہ دور کے فقھاء احناف کا اقدام بڑا قابل رشک ہے، ان مسائل کو ہمارے فقہ کے مطابق حل کرنااور امت کی رہنمائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، چند دنوں قبل میرا حیدرآباد میں حنفی مفتیان کے مشورے میں جانا ہوا وہاں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب بھی موجود تھے، مولانا نے بھی فقہ شافعی میں نئے مسائل کے حل کی طرف اشارہ فرمایا. اخیر میں فرمایا کہ آپ یہاں سے ترتیب قائم کیجیے ہم دل سے اس کام کو کرنے کے لیے تیار ہیں.
*مفتی امین ماہے حسینی کیرلوی(کیرلا)*
(استاد دارالعلوم اوچرا، امام وخطيب مسجد عائشہ جامع مسجد کالیکٹ)
 اس ہونے والے پروگرام میں جو بھی طئے ہوگا ہم اس کو بخوشی قبول کریں گے اور ایک عظیم الشان کام سے ہم بھی مستفید ہونگے اور اخیر میں سنی حضرات کے تعصب کے تعلق سے جو بات سامنے آئی اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک درخواست یہ کی کہ ہمارے کیرلا کے سنی حضرات دیگر بریلوی لوگوں کی طرح نہیں ہے بس کام زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ان شاء اللہ ان کے متبعین بھی ہمارے اس کام کے قریب ہونگے.
*مفتی مالک میران حسینی مدراسی (تملناڈو)*
فقہ شافعی کے جدید مسائل میں فتاوی نہ ہونے کی بناء پرامام شافعی کے متبعین اپنے مسائل سے ناواقف ہیں اورہمارے یہاں بعض ایسے شوافع علاقے بھی ہیں جہاں احناف کا فتوی دیا جاتا ہے اور شوافع لوگ بھی انہیں کے فتوے پر عمل پیرا ہیں.مجھے امیدہے کہ اس اقدام سے مسلک شوافع کی ترویج ہوگی اوراہل علم کے لیے بھی اچھامیدان مل جاے گا.
*مولانا عبدالسبحان جامعی ندوی*
( استاذ حدیث وتفسیرجامعہ ضیاء العلوم رائے بریلی )
کسی بھی فقہ کو سمجھنے کے لیے صاحب فقہ کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نےکئی مکاتب فکر سے استفادہ کیا ہے آپ امام محمد سے فقہ کو حاصل کیا اور امام مالک رحمہ اللہ کے بھی شاگرد رہ چکے ہیں آپ مجمع البحرين کے مصداق ہیں، اور فرمایا کہ فقہ اسلامی کے ساتھ فکر اسلامی کی بھی ضرورت ہے یعنی فتاوی کے ساتھ پیش آمدہ مسائل کا حل اور یہ مسائل کیوں پیش آرہے ہیں اس کی فکر کرنا بھی فقیہ کی ذمہ داری ہے.
*مولانا عبیداللہ ابوبکر جامعی ندوی*
( بانی و ناظم جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور )
مولانا نے کلیدی خطبہ پیش کیا جس میں انھوں نے فقہ شافعی کی تاریخ اور خدمات اور موجودہ دور میں نئے مسائل کے حل کی ضرورت پر روشنی ڈالی.
ان اکابرین کے تاثرات کے بعد اسکے قیام کے اگلے مرحلے پر بات چیت شروع ہوئی تو سب سے پہلے اس کے نام کے متعلق کئی آراء سامنے آئیں پھر فیصلہ اس بات پر ہوا کہ ان تمام نام کو مجلس عاملہ اور ارکان تاسیس کے سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا پھر بعد ظہر *"مجمع الإمام الشافعی العالمی "* بالاتفاق یہ نام طے ہوا.
اگلا مرحلہ سرپرست متعین کرنے کا رہا اس میں مختلف آراء سامنے آئیں اخیر میں بحکم صدر بزرگ ہستی ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ وصدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ *حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی صاحب ندوی* اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے ذمہ دار فقیہ العصر *حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب* کا نام طے ہوا.
پھر ہر ریاست والوں کی اور پوری مجلس کی اتفاق رائے سے ہر ریاست سے ایک ایک سرپرست متعین کئے گئے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں.
*کرناٹک :*
*قاضی بھٹکل حضرت مولانا اقبال ملا ندوی*
*مہاراشٹر :*
*شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب*
( استاذ حدیث وفقہ جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن)
*کیرلا :*
*حضرت مولانا عبدالشکور قاسمی صاحب*
(صدر آل  مسلم پرسنل لا بورڈ شاخ کیرالا
بانی دار العلوم الاسلامیہ اوچرا کولم
استاذ تفسیر وحديث جامعہ حسنیہ کایم کلم)
*تملناڈو :*
*حضرت مولانا محمد علی صاحب*
*آندھراپردیش :*
*مولانا محمد بن عبدالرحیم بانعیم*

اس کے بعد ہر علاقہ سے آئے ہوئے علماء ومفتیان میں سے مجلس عاملہ اور مجلس تحقیقی  کے طور پر ایک جماعت کا انتخاب عمل میں آیا.
     اس عظیم الشان خدمت کے لیے دفتری مرکزکس جگہ رہے؟ اس کے متعلق حاضرین نے اپنی اپنی رای پیش کی، بعضوں نے جامع مسجد ممبئی کا نام پیش کیا اور اکثر حضرات نے اس کو سراہا ، بعضوں نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا نام پیش کیا، پھر اخیر بعض کی یہ رای رہی کہ کام یہاں سے شروع ہوا ہے مرکزیت اسی کو حاصل رہے گی اس پر تمام شرکاء بھی راضی ہوگئے،اوراس مجلس کے صدرمولاناایوب صاحب ندوی نے جامعہ ضیاء العلوم کنڈلورکے متعلق فیصلہ سنایالیکن مولانا عبیداللہ صاحب نے فرمایا کہ اس علاقے میں جامعہ اسلامیہ کو مرکزیت حاصل ہے جوہمارامادرعلمی بھی ہےاگر وہ اس کو قبول کرلے تو بہتر بات ہوگی اورہم یہ قربانی دینے تیارہیں ورنہ ہمارا جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور کے لیے سعادت کی بات ہے-
 اخیر میں اتفاق جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور پر ہی ہوا کہ مرکزیت جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور کو حاصل رہے گی.
*مولانا محمد شفیع جامعی قاسمی ملپا*
(بانی و ناظم ادارہ رضیۃ الابرار بھٹکل ،سابق مہتمم ونائب ناظم جامعہ اسلامیہ بھٹکل)
مولانا نے تمام مفتیان کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تحقیق فقط بخاری ومسلم کی حدیث پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ صحابہ، ائمہ کرام کے اقوال اور جمہور علماء کرام کی رای پر ہونی چاہیے، اور اس بات پر زور دیا کہ تحقیق کے نام پر خود سے استدلال کر کے خود مجتہد نہ بنیں اور اقوال ضعیفہ پر فتوی نہ دیں اقوال سے تو کتابیں بھری پڑی ہیں، کوشش ضرور اس بات کی کریں کہ ہماری ہر تحقیق اور فتوی جمہور کے مسلک کے مطابق ہو.
     خطبہ صدر سے پہلے حضرت مولانا عبیداللہ ابوبکر جامعی ندوی نے آئے ہوئے تمام علماء کرام ومفتیان عظام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے امید بھی نہیں تھی کہ اتنا بڑا مجمع ہماری دعوت پر حاضر ہوگا میں آپ تمام کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی تمام کی آمد اور آج کے ہمارے اس تاریخی پروگرام کو قبول فرمائے.
اخیر میں صدر جلسہ وصدر مجمع الإمام الشافعی العالمی حضرت مولانا ایوب صاحب ندوی کے خطاب اور دعا سے اس نشست کا اختتام عمل میں آیا.
مجلس میں شہر بھٹکل سے مولانا عبدالمغنی اکرمی جامعی ندوی (بانی خیرالعلوم بھٹکل) ،مولانا حسن غانم اکرمی جامعی ندوی، مولانا طارق اکرمی جامعی ندوی (اساتذہ خیر العلوم بھٹکل) ، شہر کیرلا سے مفتی امین ماہے حسینی ،مفتی طارق حسینی ،(استاذ فقہ جامعہ حسنیہ کایم کلم) مفتی محمد احمد حسینی، (استاذ فقہ وافتا وادب جامعہ نجم الہدی منجیری) مفتی نوح ضیائی .،مفتی فائزضیائی ،مفتی شفیق ضیائی اوران کے رفقاء، مہاراشٹرا سے مفتی نذیر احمد کرجیکر صاحب(صدر مفتی وأستاذ جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن) مفتی فرید ہرنیکر صاحب (استاذ جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن )شہر ممبئی سے مفتی اشفاق قاضی (جامع مسجد ممبئی )شہر رتناگری سے مفتی رضوان (مہتمم جامعہ ادھم نگر رتناگری )وغیرہم قابل ذکر ہیں.
ان پروگرام کی نظامت کے فرائض مفتی اشفاق قاضی صاحب نے بحسن خوبی انجام دیا اور کئی قیمتی مشوروں سے نوازا.

ظہر بعد مجلس عاملہ اور تأسيسی اراکین کے درمیان بالاتفاق مجمع الإمام الشافعی العالمی کے اہم اہم عہدوں کافیصلہ ہوا
صدر:
*حضرت مولانا محمد ایوب ندوی بھٹکلی*

*نائبین صدر:*
*مفتی رفیق پورکر مدنی،مولانا خواجہ اکرمی جامعی مدنی،مفتی عمر ملاحی حسینی*

*جنرل سیکریٹری:*
*قاضی محمد حسین ماہمکر فلاحی*

*جوائنٹ سیکریٹری:*
*مولانا عبیداللہ ابوبکر جامعی ندوی*


*خازن:*
*مفتی اشفاق قاضی*

 ان۔شاء اللہ مجلس سرپرستان، تاسیسی اراکین وعاملہ کی اگلی نشست جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور میں ہی ٢٩ مارچ ٢٠١٨ کو طے ہے، اللہ تعالٰی اس ہونے والے پروگرام کو بھی قبول فرمائے اور کام کے آگے بڑھنے کا ذریعہ بنائے. آمین

اتوار، 10 دسمبر، 2017

صرف قرآنی آیات اسکرین پر ظاہر ہونے کی صورت میں موبائل اور اسکرین کو چھونا حرام ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                         📁  *مسئلہ نمبر :٢٣*  📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
09/12/17


  ✒📚 *محض قرآنی آیات اسکرین پر ظاہر ہونے کے متعلق ایک وضاحتی کلام* 📚✒


*_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 🔹 *چند روز قبل ہمارا فقھی مسائل (شافعی)سوال نمبر ٩٩ کے تحت موبائل فون اسکرین پر محض قرآنی آیات نمایاں ہونے کی صورت میں محدث شخص کے لیے موبائل فون اور اسکرین کو چھونے کی حرمت پر فتوی شائع ہوا تھا، دوسرے روز فقھی مسائل شافعی سوال نمبر کے ساتھ تین صفحہ پر مشتمل اردو میں بغیر نام ودستخط کے کچھ تحریر دیکھنے کو ملی اور یقینی طور پر لکھنے والے کا پتہ نہ چل سکا، چونکہ اس تحریر میں فقھی مسائل شافعی کے نام کے ساتھ لکھا گیا ہے اور اس میں کچھ وضاحت طلب باتیں بھی لکھی گئی ہیں اس لیے مختصراً کچھ لکھنا مناسب معلوم ہوا.*🔹

جمعہ، 8 دسمبر، 2017

کیکڑا کھانا راجح اور صحیح قول کے مطابق حرام ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٢*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *کیکڑا کھانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*
*(المستفتی :زاہد چوگلے )*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

*اللہ رب العزت نے اس دنیا میں بے شمار چیزوں کو پیدا فرمایا ہے جس میں سے بعض کو انسان کے لئے حلال قرار دیا ہےاور بعض کو حرام قرار دیا ہے. باری تعالٰی کا ارشاد عالی ہے*
```ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث``` *(اعراف :١٥٧)*
  *اللہ تعالٰی نے تمام طیبات کو حلال کیا ہے اور تمام خبائث کو حرام قرار دیا ہے.*

     *کیکڑا کو جمھور فقھاء نے خبائث میں شمار کیا ہے ،کیکڑا چاہے پانی میں رہتا ہو یا صحراء میں، باہر آنے کے بعد زندہ رہتا ہو یا مرتا ہو بہرصورت یہ انسان کی صحت کے لیے ضرر رساں ہے اور اس سے کینسر کی بیماری کا قوی امکان ہے.*
     *اس لیے کیکڑا چاہے باہر آنے کے بعد زندہ رہے یا مرے راجح اور صحیح قول کے مطابق حرام ہے.*

جمعرات، 7 دسمبر، 2017

آنکھ میں تکلیف ہونے کی صورت میں وضو اور تیمم کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠١*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *اگر کسی کی آنکھ کا آپریشن ہو جائے اور آنکھ میں کوئی زخم یا تکلیف بالکل نہ ہو لیکن ڈاکٹر مکمل طور پر پانی سے پرہیز کرنے کا حکم دے کہ آنکھ اور سر میں کچھ دنوں تک ہرگز پانی نہیں چھونا چاہیے تو ایسے شخص کیلئے بطور طھارت تیمم کی اجازت ہے یا نہیں؟*
*نیز تیمم سے نماز پڑھنے کے بعد اس کے اعادہ کا کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

         *اگر کسی کی آنکھ کا آپریشن ہوجائے اور آنکھ میں کوئی زخم یا تکلیف تو بالکل نہ ہو لیکن طبیب (ڈاکٹر) کامل طور پر پانی سے پرہیز کرنے کا حکم دے کہ آنکھ اور سر میں کچھ دنوں تک ہرگز پانی نہیں چھونا چاہیے ورنہ پریشانی لاحق ہوسکتی ہےتو ایسے شخص کیلئے بطور طھارت تیمم کی اجازت ہے.*
     *لہذا اس صورت میں وہ مکمل وضو کرے گا اور آنکھ میں پانی نہ پہنچنے کی بناء پر تیمم کرے گا، چونکہ آنکھ محل تیمم میں ہے اس لئے مٹی سے مسح کرنا واجب ہے لیکن اگر آنکھ کو مٹی کے لگنے سے بھی ضرر شدید کا اندیشہ ہے تو مٹی سے مسح واجب نہیں البتہ ایسی صورت میں نماز کا اعادہ لازم ہوگا*

بدرجہ مجبوری معتدہ گھر سے باہر جاسکتی ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٠٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *اگر کوئی عورت شوہر کے نان و نفقہ نہ دینے کی بناء پر خلع لے لے اور وہ عورت پیشے کے اعتبار سے معلمہ ہںو اور وہ اپنا اور اپنے بچوں کا نان و نفقہ خود برداشت کررہی ہںو تو دوران عدت اپنی ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہںے یا نہیں؟*
*(المستفتی :عرفان قادری)*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

   *حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اس نے اپنے کھجوروں کو کاٹنا چاہا تو ایک آدمی نے گھر سے نکلنے پر انہیں ڈانٹا تو وہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں تم اپنی کھجوریں توڑو، ہوسکتا ہںے کہ تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی نیک کام کرو. (١)*
     *فقھاء کرام اس حدیث کو مستدل بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ معتدہ بائنہ ضرورت کی وجہ سے باہر نکل سکتی ہے اور اسکا ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ معتدہ عورت جس کا نفقہ شوہر پر واجب نہ ہو اور اسکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کوئی موجود نہ ہںو تو اسکے لیے ضرورتاً گھر سے نکلنا جائز ہںے.*
      *لہذا اگر کوئی عورت شوہر کے نان و نفقہ نہ دینے کی بناء پر خلع لے لے اور وہ عورت پیشے کے اعتبار سے معلمہ ہںو اور وہ اپنا اور اپنے بچوں کا نان و نفقہ خود برداشت کررہی ہںو نیز اس کا نان و نفقہ برداشت کرنے والا کوئی دوسرا بھی موجود نہ ہںو تو وہ دوران عدت اپنی ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہںے.*

بدھ، 6 دسمبر، 2017

قرآنی آیات اسکرین پر ظاہر ہونے کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کو بلا وضو چھونا جائز نہیں ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *موبائل فون کی اسکرین پر جب قرآنی آیات ظاہر ہوں اس وقت اسکرین اور موبائل فون کو ہاتھ لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

  *موبائل فون کی اسکرین ایک تختی کے مانند ہے، جس پر قرآن کی آیت لکھنے کی وجہ سے وہ تختی مصحف کے حکم میں ہوجاتی ہے اور بلاوضو اس تختی، حاشیہ، بین السطور، اس سے متصل جلد اور غلاف وغیرہ کو چھونا حرام ہوجاتا ہے.*
   *لہذا موبائل فون کی اسکرین پر آیات مبارکہ جب نمایاں اور ظاہر ہورہی ہوں (جیسا کہ آج کل کے دور میں موبائل فون میں مستقل قرآن کا ایپ آتا ہے اس کو کھولنے پر اسکرین پر مصحف کا پورا مکمل صفحہ نمایاں اور ظاہر ہوجاتا ہے اس ایپ کو کھولا جائے اور اسکرین پر قرآنی آیات ظاہر ہوں ) تو اس وقت موبائل فون اور اسکرین کا حکم مصحف کی طرح ہوجاتا ہے اس لیے موبائل فون کی اسکرین پر محض آیات مبارکہ نمایاں ہونے کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کو بلا وضو چھونا جائز نہیں ہے.*

منگل، 5 دسمبر، 2017

بدرجہ مجبوری ناپاک کپڑے پر نماز پڑھ کر نماز کا اعادہ کیا جائے گا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٨*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *کیا کہتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ھذا میں کہ ایک شخص ایک بند کمرے میں موجود ہے اور اس میں سی سی کیمرہ موجود ہے  اور اس کےبدن پر ناپاک کپڑے ہے اور نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے نہ کمرے سے باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی ستر ڈھانپنے کے لیے اس کے پاس کوئی چیز موجود ہے تو ایسے وقت میں وہ کیا کرے؟ کیا نماز قضا کردے یا اس حالت میں نماز پڑھکر بعد میں اعادہ کرے.*
*(المستفتی :ندیم داکھوے)*

*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *اگر کوئی شخص صرف نجس کپڑے پر ہی قادر ہو اور اسکے علاوہ پاک کپڑے وغیرہ کا حصول ممکن نہ ہو تو حرمت وقت کی وجہ سے ناپاک کپڑا اتار کر برہنہ نماز پڑھے گا اور اس نماز کا اعادہ بھی ضروری نہیں ہے.*
      *لیکن چونکہ سوال کے مطابق کمرے میں سی سی کیمرا موجود ہے اور ناپاک کپڑے اتار کر برہنہ پڑھنے کی صورت اسکے پورے بدن کا اس میں محفوظ ہونا لازم ہے اور کبھی اس کی ننگی تصویر کا غلط استعمال ہوسکتا ہے اور اس میں بے عزتی کا مسئلہ ہوگا نیز مسلمان پر ستر عورة واجب ہے چاہے نجس کپڑے سے ہی کیوں نہ ہو،چاہے تنہائی میں کیوں نہ ہو.اس لیے ان تمام امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسی ناپاک کپڑے پر نماز پڑھے گا اور بعد میں اس نماز کا اعادہ کرے گا.جیساکہ اگر کوئی نجس کپڑا پہنا ہو اور کوئی دوسرا پاک کپڑا نہ ہو اور سخت سردی یا گرمی کے موقع پر نماز پڑھنے کے لیے ان کپڑوں کو نکالنے کی صورت میں ہلاکت کا خوف ہو تو کپڑے نکالے بغیر نجس کپڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور نماز کے اعادہ کاحکم ہے.*

قبر پر تر ٹہنی لگانا مسنون ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٧*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
 *قبر پر درخت لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے اور اس کی دلیل کیا ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

   *حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا گزر دو قبروں پر سے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ان دو قبروں میں عذاب ہورہا ہے... پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو تر لکڑی لی اور اسکے دو حصے کئے پھر ہر قبر پر اسکو لگا دیا پھر فرمایا جب تک یہ شاخ تر رہے گی امید ہے کہ ان سے عذاب کم ہوگا.(١)*
  *اس حدیث کو مستدل بناتے ہوئے فقھاء کرام رح فرماتے ہیں کہ قبر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کرتے ہوئے تر ٹہنی لگانا مسنون ہے تاکہ اس کی تسبیح کی برکت سے میت کو فائدہ ہو.*