منگل، 28 اگست، 2018

شادی شدہ اور غیر شادی شدہ عورت کے لئے مہندی لگانے کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٣*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
   
*عورت کے لئے مہندی لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے اور کیا شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے لئے ایک ہی حکم ہے یا الگ الگ؟؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *مہندی لگانے کا اصل مقصد اپنے شوہر کے لئے زینت اختیار کرنا ہے اسی وجہ سے شادی شدہ عورت کے لئے اپنے شوہر کی موجودگی میں اسکی اجازت سے مکمل ہاتھ اور پیر کو مہندی لگانا مسنون قرار دیا گیا ہے لیکن شادی شدہ کے لئے بھی مہندی کون وغیرہ سے ڈیزائن کرنا مسنون نہیں ہے بلکہ جائز ہے اور شوہر کی اجازت کے بغیر ڈیزائن و نقش ونگاری حرام ہے۔*
    *اور غیر شادی شدہ عورت کے حق میں مکمل ہاتھ پیر میں مہندی لگانا مکروہ ہے اور جب فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس وقت غیر شادی شدہ عورت کے حق میں مہندی لگانا حرام ہے. نیز غیر شادی شدہ عورت کے حق میں کون وغیرہ سے ڈیزائن کرنا مطلقاً حرام ہے، اور کسی اجنبی مرد کے ہاتھ سے ڈیزائن نکلوانا شدید حرام ہے.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ويسن... خضب يدي إمرأة مزوجة وخضب رجليها تعميما لا تطريفا الظاهر... لكل من اليدين والرجلين... وهذا المسنون... بحناء... واحترز بقوله مزوجة عن غيرها فإنه لا يسن لها الخضب المذكور حينئذ بل هو مكروه أو يحرم إن تحققت الفتنة.*
*(فيض الإله المالك : ٣٦/١)*
*ويسن لغير المحرمة إن كانت حليلة وإلا كره.*
*ولا يسن لها نقش وتسويد وتطريف وتحمير وجنة، بل يحرم واحد من هذه على خلية ومن لم يأذن لها حليلها..*
*(إعانة الطالبين : ٣٨٧/٢)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*
      📖 *مفتی طاهر شیخ*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ،مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی عمر ملاحی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

پیر، 27 اگست، 2018

بذریعہ موبائل فون نکاح کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٢*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *بذریعہ موبائل فون نکاح کا شرعاً کیا حکم ہے ؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

     *نکاح میں ایجاب وقبول اہم رکن ہے اور جانبین کا ایک مجلس میں ہونا اور ایک دوسرے کو نظر آنا ضروری ہے نیز دو گواہ کا مجلس میں حاضر رہنا اور ایجاب وقبول کو اسی مجلس میں سننا ضروری ہے*
   *اور یہ بات واضح ہے کہ یہ تمام باتیں موبائل فون پر بات چیت سے حاصل نہیں ہوتی اس لئے موبائل فون سے بطور بات چیت نکاح منعقد نہیں ہوگا.*
   *البتہ عاقدین میں سے ایک بذریعہ موبائل کسی کو وکیل بنائے اور وہ وکیل اس کی طرف سے مجلس میں گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرے تو اس طرح وکالت کے ساتھ نکاح درست ہوجائے گا. (١)*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ويدل على جواز الوكالة أن النكاح عقد يقصد فيه المعاوضة فصحت فيه الوكالة كالبيوع،*
... *فإذا تقرر جواز الوكالة في النكاح جاز أن يوكل الولي والزوج، ولم يجز أن يوكل الزوجة، لأنه لا حق للزوجة في مباشرة العقد فلم يصح منها التوكيل فيه،*
*(الحاوي الكبير :١١٣/٩)*
*فلو قال لغائب: زوجتك ابنتي، أو قال: زوجتها من فلان ثم كتب فبلغه الكتاب أي الخبر فقال: قبلت لم يصح،*
*(مغني المحتاج :٢٣٠/٤)*
*بل لو قال لغائب زوجتك ابنتي، أو قال زوجتها من فلان ثم كتب فبلغه الكتاب، أو الخبر فقال قبلت لم يصح كما صححه في أصل الروضة في الأولى، وسكت عن الثانية لأنها سقطت من كلامه، إلى أن فرق في شرح الروض بين ما هنا والبيع بأنه أوسع بدليل انعقاده بالكناية وثبوت الخيار فيه انتهى*
*(حاشية الشبراملسي :٢١٢/٦)*
*( ١ ) موبائل فون... احکام ومسائل*

             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه  : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فرید احمد ہرنیکر، مفتی ضمیر نجے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

ہفتہ، 25 اگست، 2018

تیرہ ذو الحجہ کے غروب شمس تک قربانی کرنا صحیح ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٤٧*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ قربانی ساڑھے تین دن یعنی تیرہ(١٣)ذی الحجہ کی دوپہر تک کرسکتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے. ؟ اور عصر بعد قربانی کرنے سے قربانی صحیح ہوگی؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

      *شوافع کے نزدیک قربانی کا وقت چار دن ہے، دس (١٠) ذو الحجہ اور ایام تشریق کے آخری دن تک یعنی تیرہ( ١٣ )ذو الحجہ کے سورج غروب ہونے تک قربانی کا وقت باقی رہتا ہے.*
      *لہذا چوتھے دن یعنی تیرہ (١٣) ذو الحجہ کی شام عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے تک قربانی کرنا صحیح ہے اور قربانی صحیح ہوجائے گی.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*ويخرج وقت التضحية بغروب الشمس في اليوم الثالث من أيام التشريق.*
*(روضة الطالبين :٢٠٠/٣)*
*ويستمر وقت الذبح (إلى غروب الشمس من آخر أيام التشريق)، وهي الثلاثة المتصلة بعاشر ذي الحجة.*
*(فتح القريب المجيب :٣١٣/١)*
*إلى آخر أيام التشريق أي يمتد وقتها إلى آخر أيام التشريق، أي غروبها سواء ذبح ليلا أو نهارا لكنه يكره في الليل.*
*فلو ذبح بعد آخر أيام التشريق لم يقع أضحية.*
*(إعانة الطالبين :٣٧٧/٢)*
           
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی عمر ملاحی ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

جمعہ، 24 اگست، 2018

قربانی کا مکمل گوشت اپنے پاس رکھنا صحیح نہیں ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥١*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *قربانی کا گوشت پورے کے پورے اپنے پاس روکے رکھنا جائز ھے یا نہیں؟ یا ان میں سے کچھ صدقہ کرنا ضروری ھے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*
 
    *اگر قربانی واجب ہو مثلاً نذر کی قربانی تو ایسی قربانی کے مکمل گوشت کو فقراء پر تقسیم کرنا واجب ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی میت کی وصیت کی وجہ سے قربانی کر رہا ہو تو ایسی قربانی کا بھی مکمل گوشت فقراء پر تقسیم کیا جائے گا.*
    *اور اگر کوئی شخص سنت قربانی کررہا ہو جیسے عیدالاضحٰی کی قربانی، تو ایسی قربانی کے گوشت میں سے تھوڑا بہت گوشت فقراء پر صدقہ کرنا واجب ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی فقیر کو دئے بغیر مکمل گوشت خود اپنے پاس ہی رکھ لیا تو جتنا گوشت صدقہ کرنا واجب تھا اس کے بدلے دوسرا گوشت صدقہ کرنا لازم ہوگا.*
     *لہذا وصیت اور نذر کے علاوہ سنت قربانی ہو تو قربانی کا پورا گوشت اپنے پاس روکے رکھنا جائز نہیں ہے بلکہ کچھ نہ کچھ فقیر کو دینا واجب ہے.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*والقول الثاني) وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين وهو الأصح عند جماهير المصنفين منهم المصنف في التنبيه يجب التصدق بشئ يطلق عليه الاسم لأن المقصود إرفاق المساكين فعلى هذا إن أكل الجميع لزمه الضمان وفي قدر الضمان خلاف (المذهب) منه أن يضمن ما ينطلق عليه الاسم...*
*(المجموع :٤١٦/٨)*
*(والأصح وجوب التصدق ببعضها) ولو جزءا يسيرا من لحمها بحيث ينطلق عليه الاسم على الفقراء، ولو واحدا*
*(مغني المحتاج :١٣٥/٦)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه  : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی ضمیر نجے ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی ،مفتی عاقب کوکاٹے*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰  *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/AKLcJS6UUg01dgUmOsE9cb

والد اپنے چھوٹے بچے کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٥٠*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *کیا ایک باپ اپنے ایک سالہ بچے کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*
 
   *قربانی بالغ، عاقل، اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر مسنون ہے لہذا نابالغ بچہ قربانی کا مخاطب نہیں ہے البتہ اگر اس کا ولی جیسے بچہ کا والد اس بچہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو اپنے مال سے قربانی کرسکتا ہے اور قربانی درست ہوجائے گی.*
  *معلوم ہوا کہ اگر ایک سالہ بچے کی طرف سے اس کا والد اپنے مال سے قربانی کرنا چاہے تو قربانی کرسکتا ہے.*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖

*وللولي الأب فالجد - لا غير لأنه لا يستقل بتمليكه فتضعف ولايته عنه في هذا - التضحية من ماله عن محجوره كما له إخراج الفطرة من ماله عنه ولا ترد عليه هذه أيضا لأنه قائم مقامه.*
*(تحفة المحتاج :٣٦٧/٩)*
             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ، مفتی ضمیر نجے ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/DHLRlCNjRww311aqad6nxE

منگل، 21 اگست، 2018

عید الاضحٰی کی نماز کا طریقہ

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

         📚 *فقھی مسائل( شافعی )گروپ*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖➖
            📁 *مسئلہ نمبر : ١٥*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹
             💫 *عید کی نماز کا طریقہ* 💫

🍃 *عید الاضحٰی کی نماز غیر حاجی کے لیے سنت مؤکدہ ہے.*

🍃 *عید الاضحٰی جمعہ کے شرائط پر موقوف نہیں ہے.(یعنی اس میں لوگوں کی مخصوص تعداد وغیرہ کی شرط نہیں ہے. )*

🍃 *لہذا عورت، خنثی، بچہ، مسافر بھی نماز پڑھیں گے.*

🍃 *اسکا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع کرنا افضل ہے.*

🍃 *عید الاضحٰی کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھی جائے گی.*

🍃 *اکمل طریقہ یہ ہے کہ اسکو جماعت کے ساتھ پڑھا جائے.*

🍃 *پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور توجیہ(وَجَّھْتُ)کے بعد سات (7) تکبیرات کہی جائیں گی، اور دوسری رکعت میں کھڑے ہونے کے بعد پانچ (5) تکبیرات کہی جائیں گی.*

🍃 *ان زائد تکبیرات کے فوت ہونے پر سجدہ سہو نہیں کیا جائے گا.*

🍃 *آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ان تکبیرات کو بلند آواز سے کہیں اور ہاتھ کو اٹھایئں.*

🍃 *ہر دو تکبیر کے درمیان دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے نیچے رکھے گا.*

🍃 *اور ہر دو تکبیر کے درمیان ایک معتدل آیت کے بقدر ذکر پڑھے گا. لہذا "سُبْحَانَ اللہ وَ الْحَمْدُ للہ وَ لاَ إِلهَ إلاَّ اللهَ وَ اللہُ اکْبَر" کہے گا.*

🍃 *پہلی رکعت میں ساتویں تکبیر کے متصلاً اور دوسری رکعت میں پانچویں تکبیر کے بعد متصلاً قرأت کے لیے تعوذ پڑھے گا.*

🍃 *پھر سورہ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں "ق " یا "سبح اسم ربک" اور دوسری رکعت میں "اقتربت الساعة" یا "ھل اتاک" پڑھے گا.*

🍃 *فراغت نماز کے بعد امام منبر پر چڑھے گا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو گا اور سلام کرے گا پھر بیٹھے گا.*

🍃 *اور جمعہ کے خطبے کی طرح دو خطبے دے گا.*

🍃 *اور عید الاضحٰی میں قربانی کے مسائل بیان کرے گا.*

🍃 *اور پہلے خطبے کی ابتداء نو (9)تکبیرات سے اور دوسرے خطبے کی ابتداء سات (7) تکبیرات سے کرے گا.*

🍃 *لوگوں کے لیے خطبہ غور سے سننا مندوب ہے.*


*(اسنی المطالب ،تحفة الباري)*

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
           
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ،مفتی ضمیر نجے ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/DHLRlCNjRww311aqad6nxE

عیدالاضحی کے مسائل

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *مسئلہ نمبر : ١٦*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

      🕌🌙 *عید الاضحٰی کے مسائل* 🌙🕌

🔘 *عید الاضحٰی کی نماز سنت مؤکدہ ہے.*

🔘 *عید کی رات عبادت میں مشغول رہنا مستحب ہے.*

🔘 *عید کے دن غسل کرنا سنت ہے، بہتر یہ ہے کہ فجر بعد غسل کریں .*

🔘 *نظافت اختیار کرنا سنت ہے.(بالوں کازائل کرنا، ناخن تراشنا، اور بو کو زائل کرنا وغیرہ البتہ قربانی کا ارادہ رکھنے والا قربانی کے بعد ہی ناخن تراشے اور بال زائل کرے)*

🔘 *ہر حاضر ہونے والے کے لیے زینت اختیار کرنا مندوب ہے.*

🔘 *عطر لگانا سنت ہے.*

🔘 *عمدہ کپڑا پہننا سنت ہے.*

🔘 *عید الاضحٰی کی نماز کے لیے جانے سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے.*

🔘 *عید کی نماز کے لیے چل کر جانا سنت ہے، اگر کوئی معذور ہے تو سوار ہونے میں حرج نہیں.*

🔘 *عید کی نماز کے لیے جلدی جانا مستحب ہے، البتہ امام کے لیے تاخیر مستحب ہے.*

🔘 *عید کی نماز کے لیے ایک راستہ سے جائیں اور دوسرے راستے سے لوٹیں، جاتے وقت طویل راستہ اختیار کریں، لوٹتے وقت چھوٹے راستے سے لوٹیں.*

🔘 *عید کے دن ایک دوسرے کو مبارکباد دیں.*

🔘 *عید الاضحٰی میں ہر نماز کے بعد ایام تشریق کے آخری دن یعنی عصر کے بعد تک تکبیر کہنا سنت ہے.*

*تکبیر کے الفاظ :*

  *اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لاَ إِلهَ إلاَّ اللهَ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أكبَرُ، وَلِلّهِ الْحَمْدُ، اللهُ أَكبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً، لاَ إِلهَ إلاَّ اللهَ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَأَعَزَّ جُنْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، لاَ إِلهَ إلاَّ الله، واللہُ أَكْبَر، اللہُ أَكْبَر، وَ لِلّهِ الْحَمْدُ.*
---------------
*( المهذب. اسنی المطالب. فتح القريب)*
     

          💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
   ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖

             
  📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*


     📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*


*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/DHLRlCNjRww311aqad6nxE

جمعرات، 5 جولائی، 2018

بلا وضو اسکرین پر ظاہر قرآنی آیات چھونا

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ٩٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
 *موبائل فون کی اسکرین پر جب قرآنی آیات ظاہر ہوں اس وقت اسکرین اور موبائل فون کو ہاتھ لگانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

  *موبائل فون کی اسکرین ایک تختی کے مانند ہے، جس پر قرآن کی آیت لکھنے کی وجہ سے وہ تختی مصحف کے حکم میں ہوجاتی ہے اور بلاوضو اس تختی، حاشیہ، بین السطور، اس سے متصل جلد اور غلاف وغیرہ کو چھونا حرام ہوجاتا ہے.*
   *لہذا موبائل فون کی اسکرین پر آیات مبارکہ جب نمایاں اور ظاہر ہورہی ہوں (جیسا کہ آج کل کے دور میں موبائل فون میں مستقل قرآن کا ایپ آتا ہے اس کو کھولنے پر اسکرین پر مصحف کا پورا مکمل صفحہ نمایاں اور ظاہر ہوجاتا ہے اس ایپ کو کھولا جائے اور اسکرین پر قرآنی آیات ظاہر ہوں ) تو اس وقت موبائل فون اور اسکرین کا حکم مصحف کی طرح ہوجاتا ہے اس لیے موبائل فون کی اسکرین پر محض آیات مبارکہ نمایاں ہونے کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کو بلا وضو چھونا جائز نہیں ہے.*

غلطی سے بجائے ہوئے سائرن پر افطار

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم*  🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٤٩*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال  :_*
     *ہمارے یہاں مؤذن صاحب نےافطار کے وقت مقررہ سے 5 منٹ پہلے غلطی سے سیرن بجا دیا تو کیا جنھون نے روزہ افطار کیا انکا روزہ ہوا یا نہیں.؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*
 
   *روزہ کی ابتداء طلوع فجر سے ہوتی ہے اور سورج مکمل غروب ہونے کے بعد روزہ مکمل ہوتا ہے اگر کوئی شخص طلوع فجر کے ایک منٹ بعد یا غروب شمس کے ایک منٹ پہلے مفطرات صوم میں سے کسی ایک چیز کا ارتکاب کرلے مثلاً کھائے پئے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس روزہ کی قضاء لازمی ہوگی.*
    *لہذا مؤذن صاحب نے افطار کا اعلان، اذان سورج غروب ہونے سے پہلے دی ہو یا سائرن بجا دیا ہو چاہے غلطی سے ہی کیوں نہ ہو تو اس صورت میں اس اعلان، اذان اور سائرن پر افطار کرنے والوں کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور ایک روزہ کی قضاء لازمی ہوگی، البتہ اگر کسی بستی میں احتیاطاً افطار کا وقت سورج غروب ہونے کے پانچ منٹ بعد رکھا گیا ہو تو اس صورت میں روزہ صحیح ہوجائے گا.*
     

بدھ، 27 جون، 2018

نئے مکان کے افتتاح کے موقع پر دعوت کا حکم

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

                  📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
                          📁 *سوال نمبر : ١٤٨*📁
   
 🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
     *کسی نے نیا گھر لیا اور اس میں قرآن پڑھوا کر لوگوں کو دعوت دی تو کیا ایسا کرنا شرعا درست ہے؟ اور کیا ایسی دعوت میں شرکت کرسکتے ہیں؟*


*========================*
                  *_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
 *_الجواب وبالله التوفيق_*

    *حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے اس گھر سے شیطان دور چلا جاتا ہے لہذا اسی کے خاطر اگر کوئی سورہ بقرہ یا پورے قرآن کی تلاوت سے گھر کی افتتاح کرے تو یہ جائز اور باعث برکت ہے البتہ روز تلاوت قرآن پاک کرتے رہنا چاہیے.*
   *گھر اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے اس نعمت کے حصول میں اگر کوئی خوشی سے دعوت کرتا ہے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ یہ دعوت کرنا پسندیدہ ہے اور اس دعوت کو قبول کرنا بھی مسنون ہے.*
  *لہذا نئے گھر کے افتتاح کے موقع پر قرآن پڑھنا اور گھر کی افتتاح کی خوشی میں دعوت کرنا شرعاً جائز ہے بلکہ پسندیدہ عمل ہے اور اس دعوت میں شرکت کرنا بھی مسنون ہے*